سردار اختر مینگل۔ سے یہ انٹرویو کراچی میں سردار اختر مینگل۔ کی رہائیش گاہ ڈیفنس میں سنہ 2006میں اس وقت لیا گیا تھا جب حالات آج کے حالات سے بہت ہی مختلف اور جدا گانہ تھے نہ ہی موجودہ دور تھا اور نہ ہی موجودہ حکومت اس وقت موجود تھی اب جب کے ان حالات کو گزرے ہوئے بہت سا وقت گزر چکا ہے اور بہت ساپانی دریاوں میں سے گزر چکا ہے مگر اس کے باوجود پاکستانی قوم بہت سے معاملات میں ابھی تک جوں کی توں وہیں پر موجود ہے اس لیئے اس پرانے انٹرویو کو آپ کی دلچسپی کے لیئے دوبارہ شائع کیا جارہا ہے کہ شائد اس میں ابھی بھی کچھ افادیت مل جائے
نوٹ یہ انتڑویو کراچی میں اس وقت شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ میں شائع ہوا تھا
وجود۔ بلوچستان کے مسائل کیا،کیا ہیں؟
سردار اختر مینگل۔ بلوچستان کا مسئلہ نیا نہیں ہے اور نہ ہی اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے اور نہ ہی الجبر ا کا سوال ہے جس کو صرف میتھ میٹکس کا ایکسپرٹ ہی حل کرسکتا ہے جس کو دو اور دو جمع چار کہا جاتا ہے وہ اس طرح کا ہے ۔1947 میں جب پاکستان کی بنیاد رکھی گئی اس وقت بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی یہ بات میں واضح کرناچاہتا ہوں کہانگریزوں کی آمد سے پہلے جس طرح سے صوبے تھے جن کو آج کل صوبہ کا درجہ دیا گیا ہے وہ سب ہندوستان کا حصہ تھے بلوچستان وہ واحد ریاست تھی جس کی اپنی آزاد حیثیت تھی انگریزوں کی یلغار کے بعد انہوں نے ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا شروع کردیا انگریزوں نے جو سو سال ہم پر حکمرانی کی اب وہ کس کی جدوجہد سے کس کی قر بانیوں سے یہاں سے وہ گئے اس کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا ہوں وہ تاریخ کا حصہ ہے نہ ہی اس کا کریڈٹ ہم بلوچستان کے لوگ لینا چاہتے ہیں وہ پنا تاریخ میں ایک نام لکھ کر گئے ہیں 1947 میں پاکستان کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو بلوچستان کی ریاست کے دو ایوان تھے ایک ایوان بالا اور دوسرا ایوان زیریں اس وقت یہ رائے لی گئی تھی کہ آپ پاکستان میں رہنا چاہیں گے یا آزاد رہنا چاہیں گے تو پاکستان میں شمولیت کی جو قرارداد تھی وہ ہمارے دونوں ایوانوں نے مسترد کردی تھی
وجود۔ قلات کی ریاست نے ؟
سردار اختر مینگل۔ جی ہاں اس سلسلے میں کوشش ہوتی رہی کہ کوئی کام ہو پھر وہ ہی قراداد جو ہمارے دونوں ایوانوں نے مسترد کردی تھی کوئٹہ کی میونسپل میں پیش کی گئی اور اس کو کوئٹہ میونسپل کمیٹی نے پاس کردی ۔
وجود۔ پاکستان میں شمولیت کی قراداد؟
سردار اختر مینگل ۔ جی ہاں اسی طرح ہمارے دو ایوان تھے ان کی رائے کو مسترد کردیا گیاصرف کوئٹہ میونسپل کمیٹی کی قرار داد کو اپناتے ہوئے نہ صرف ہمیں شامل کردیا گیا بلکہ قلات پر حملہ کر کے ریاست قلات،بلوچستان پر قبضہ کر لیا گیا کسی نے اس کو خوشی کے ساتھ منظور کیا کسی نے اس کو مجبوری کے ساتھ اپنا لیا ایک آزاد ریاست کو آپ کسی ملک میں شامل کرتے ہیں تو کم از کم ان سے برتاؤ تو اس طرح کا رکھا جائے تو کوئی بھی آزادی کا ان کو احساس نہ ہو اور اس کو یہ احساس دلانے کی کوشش کریں کہ یہاں پر بھی آپ بالکل آزاد ہیں لیکن اس کو جب یہ احساس دلانے کی کوشش کریں کہ تمہاری آزادی کے دن ختم ہوگئے ہیں اور تم ایک غلام ہو اور غلام بن کر ہی اس ملک میں رہ سکتے ہوساڑھے تین لاکھ کلو میٹر رقبہ ہے بلوچستان کا اور آٹھ سو میل کا ہمارا ساحل ہے پہلا آپریشن جو بلوچستان میں کیا گیا وہ 1958 میں کیا گیا پھر اس میں کچھ عرصہ اس میں کمی آئی پھر اس میں 1960میں تیزی آگئی اور آپریشن اپنے عروج پر پہنچ گیا1973 میں اس ملک میں جو جمہوریت آئی تھی وہ مرہون منت یہاں کی اسٹیبلیشمنٹ یا فوج کی نہیں ہے وہ یہاں کے حالات تھے جو بنگلہ دیش جانے کے بعد یہاں کی ایک لاکھ فوج ہندوستان میں جنگی قیدی بن کر رہ رہی تھی ان حالات کی بدولت تھے کہ ہمیں کچھ عرصے کیلئے جمہوریت کی کرن نظر آئی لیکن بد قسمتی سے اس وقت جمہوریت کے چمپئینوں نے بلوچستان کے مسئلے کو فوج کے ذریعے سے حل کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پانچ سال تک بلوچستان کے ریگستان، نخلستان، ان ہی فوجیوں کے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی بم باری کی نظر ہو گئے اب آپ نے پوچھا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے یہ وہ پس منظر ہے جو میں نے پیش کیا ہے اب ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟من حیثیت القوم ہمیں بلوچ رہنے کا حق ہے جب اس ملک میں ہمیں شامل کیا گیا کس بد بخت نے آپ لوگوں کو یہ لکھ کر دیا تھا آپ لوگوں کو کہ ہم اپنے قومی وجود سے دستبردار ہوں اگر کوئی ایسی ڈاکو مینٹیشن ہے تو وہ ہمیں دکھائیں ؟تو کیوں ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم اپنے آپ کوجب بلوچ کہلاتے ہیں تو کہے ہیں کہ قوم پرست ہیں ملک کے غدار ہیں پاکستان کی عمر 58 سال ہے بلوچوں کی عمر ہزاروں سال ہے تو جب پاکستان ہمارے ہزاروں سال کے وجود کا انکاری ہے تو کیا ہمیں بھی یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ ہم بھی 58 برس کے وجود کا انکار کیوں نہیں کریں یہ میں پس منظر بتا رہا ہوں چلو جو کچھہ ہوا اس پر ہم بات نہیں کرتے ہیں 1970میں آج جو صورتحال بلوچستان کی ہے آ ج وہ پاکستان نہیں ہے جو 1970 میں تھاآج جو آپ کہتے ہیں پاکستان اس وقت آپ کہتے تھے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان وہ حصہ گیا کہاں ؟کیا کوئی بکرا اس کو کھا گیا ؟کیا کاغذ کا کوئی نقشہ تھا جس کو ہوا کا ایک جھونکا اٹھا کر لے گیا ؟یا سمندر کے کنارے ریت کا کوئی ٹیلہ تھا جس کو سمندر کی لہر اپنے ساتھ بہا کر لے گئی آپ کے ملک کا حصہ تھا کیوں گیا وہ ؟کس کی نالائقیوں کی وجہ سے کس کی ستم ظریفیوں کس کے ظلموں کی وجہ سے ؟ ان بنگالیوں نے جنہوں نے سب سے زیادہ پاکستان کو بنانے میں قربانیاں دیں ان ہی بنگالیوں کو مجبور کیا گیا بنگالی یہ نعرہ لگاتے تھے کہ لے کر رہیں گے پاکستان اور پاکستان کو اللہ حافظ کہہ کر پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دے کر بیٹھ گئے مجیب الرحمان سردار تو نہیں تھا آج پرویزمشرف کہتے ہیں کہ سردار ہیں مجیب الرحمان تو سردار نہیں تھا بنگال میں کسی ایک سردار کا نام تو لیں ،پھر وہاں شور ش کیوں اٹھی ؟وہاں پر یہ نفرت کے بیج کس نے بوئے تھے ؟آج ہمارے سامنے بنگلہ دیش سامنے نہیں ہے تو کم سے کم وہ لوگ وہ ادارے جس کو آپ اسٹیبلیشمنٹ کا نام دیتے ہیں جس کو آپ فوض کا نام دیتے ہیں وہ تو اپنی جگہ قائم ہیں کسی نے بھی کسی نے بھی ان سے پوچھا ہے کہ ملک کا وہ حصہ جو ہم سے گیا ہے اس کا زمہ دار کون ہے ؟ چلو ان سے آپ نہ پوچھیں ان سے تو آپ کو جان خلاصی کرنا تھی ان فوجیوں سے پوچھتے جو ایک لاکھ کی تعداد میں جو آپ کے سجیلے جوان تھے ہتھیار ڈال کر وہاں سے آئے کیا ان میں سے کسی کو سزا دی گئی ہے میں جنرلوں کی بات نہیں کرتا کسی ایک سپاہی کا بھی کورٹ مارشل کیا گیا ؟ وہاں سے فارغ ہو کر ہندوستان میں جو آپ کو مار پٹی تھی اس کا بدلہ لینے کے لئے آپ نے ان کو اختیارات دئے کہ جا کر اپنا بدلا بلوچستان میں لیں تو بلو چستان کا مسئلہ بنیادی طور پر وہ مسئلہ ہے جو ایک محکوم قوم ہے میں نہیں سمجھتا ہوں کہ صرف بلوچستان کا مسئلہ ہے جو ہماری ڈیمانڈ ہییا بلوچستان کے لوگ جس چیز کا مطالبہ کررہے ہیں ہم سب کے لئے یہاں پر بسنے والے سندھیوں کے لئے اس ملک میں بسنے والے پشتونوں کے لئے نہ صرف ان تینوں کے لئے بلکہ جواختیارات اپنے لئے مانگ رہے ہیں وہی اختیارات ہم پنجاب کے لئے بھی مانگ رہے ہیں لیکن بد قسمتی اس ملک کی یہ کہ آپ حکومت کے میراثی بن کر جوغلط کام کریں آپ پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہیں ہے لیکن آپ اپنے حق کی آوازاٹھا کر حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہوجائیں تو آپ کا نام غداروں کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا تو آج بلوچستان کے لوگوں کو سزادی جارہی ہے
وجود۔ ان مسائل کا زمہ دار کون ہے ؟
سردار اختر مینگل۔بلوچستان پر جو زیادتیاں ہوتی رہی ہیں اس کی زمہ دار صرف فوج نہیں ہے دیکھیں میری رائے یہ ہے کہ جمہوری نظام چلانے کے لے لئے چار ستون ہیں ان میں ایک پارلیمنٹ ، عدلیہ،انتظامیہ ، پریس، شامل ہیں لیکن اس ملک کے اقتدار کو کرسی کو سنبھالنے والے دو شعبہ ہیں ایک ہے جمہوری طریقے سے اقتدار کو سنبھالنے والی قومی اسمبلی اور دوسری ہے فوج اور دونوں کی بنیاد رکھی ہوئی پنجاب پرفوج کا تعلق پنجاب سے ہیبلوچستان کا تو زکر ہی نہیں ہے دوائی کے نام پر بھی آپ ڈھونڈیں گے تو مشکل سے آپ کو ملے گا
وجود ۔ بلوچستان کے عبدالقادربلوچ تو ہیں ؟
سردار اختر مینگل ۔ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
وجود ۔ مگر لیفٹنٹ جنرل تک تو پہنچے ؟
سردار اختر مینگل۔مگر معلوم نہیں کہ کس طرح وہ لیفٹنٹ جنرل بنا ؟ مگر ایک ہی مثال ہے وہ 58 سالوں میں ایک جنرل بنا اس کو گورنر بھی بنایا گیا اس کے بعد پرائیوٹ کمپنیوں میں نوکریاں کرتا پھر رہا ہے ۔ ان دونوں کا دارو مدار پنجاب پر ہے آپ فوج کو پنجاب سے جدا نہیں کرسکتے ہیں یہ وجہ ہے کہ ان چھوٹے صوبوں پر پنجابکی طرف جو ظلم و زیادتیاں ہوتی ہیں ان پر فوج شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے
وجود ۔ اس صورتحال کا کیا حل ہے؟ اس کا کوئی حل ہے جو اس شکائت کو رفع کرسکے؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہ شکائت پورے پاکستان میں پنجاب کے خلاف کی جاتی ہے حتیٰ کہ کود پنجاب میں بھی اسی طرح کی شکائت کی جاتی رہی ہے اس کا کیا حل ہے ؟کیا اس طرح کا کوئی حل نکالا جاسکتا ہے جس طرح 1973کے آئین میں رکھا گیا کہ سینٹ کی صورت میں ایک ایسا ادارہ قائم کردیا گیا جس میں تمام صوبوں کے اختیارات برابر سے دئے گئے ہیں ؟
سردار اختر مینگل۔ لیکن اس کے اختیارات کیا ہیں ؟سینٹ کے اختیارات کیا ہیں ؟
وجود کیا ایسی صورت حال میں سینٹ کے اختیارات کو بڑھانے کی تجاویز پیش کی جائے؟
سردار اخترمینگل۔ نہیں اب جو آئین ہے اس کو آپ لوگوں نے اتنا پیچیدہ کردیا ہے کہ ترامیم لا لا کہ ایک آدھ اختیارات میں اضافہ کریں تو کہیں اور سے ڈنڈی لگ رہی ہوتی ہے جو ہم نے تجویز دی تھی پونم کے اجلاس میں کہ اس آئین کا تو آپ نے حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے اگر صوبوں کے اختیارات کے حوالے سے ایک ترمیم لائیں تو دوسری شق سے اس سے بڑا نقصان پہنچے گا تو ان صوبوں کو مطمئین کرنے کے لئے تین شعبوں کو علاوہ تمام شعبے صوبوں کو منتقل کردئے جائیں ۔ ان میں دفاع، خارجہ پالیسی، اور کرنسی ان کے پاس فائننشل پاور ہیں اس لئے یہ صرف نوٹ چھاپیں جتنے دل چاہیں چھاپیں اور ان اختیارات کو آپ صوبوں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو آئین کی ہر شق میں تبدیلی لانا پڑے گی اس کے لئے بہتر ہوگا کہ نئی آئین ساز اسمبلی منتخب کی جائے یہ پونم کی قرارداد ہے کہ نئی آئین ساز اسمبلی برابری کی بنیاد پر منتخب کی جائے وہ ممبران منتخب کئے جائیں لیکن ایسے الیکشن کمیشن کے زریعے منتخب نہ کئے جائیں جو بلدیاتی الیکشنوں میں بھی دھاندلی کرتے ہوں
وجود ا الیکشن کمیشن کی ضمانت کون دے گا ؟الیکشن کمیشن تو موجودہ حکومت ہی بنوائے گی �آپ اس کوکس بنیاد پر تسلیم کریں گے ؟
سردار اختر مینگل ۔ قوموں کے معاملات جب اس حد تک چلے جاتے ہیں جب ایک دوسرے پر اعتماد کرنا مشکل ہوجائے تو اس کے لئے بین الاقوامی اداروں کو یا اقوام متحدہ سے درخواست کرسکتے ہیں کے ان کی سربراہی میں یا ان کی مانٹیرنگ میں کرائے جائیں یہ آج کی موجودہ صورتحال میں ہم بات نہیں کررہے ہیں یہ اس وقت کی ہماری ڈیمانڈ ہے یہ پونم کی جانب سے رکھا گیا تھا
وجود۔ان مسائل کے حل کیا کیا ہیں؟
سردار اختر مینگل۔ہم بڑی مدت سے اس بات کی ڈیمانڈ کرتے چلے آرہے ہیں کہ صوبوں کومکمل اختیارات دئے جائیں رٹ لگا رکھی تھی کہ 73 کا آئین چلو آپ ہی اسکے پاسبان ہیں آپ ہی اس کے خالق ہیں لیکن یہ تو بتائیں کے ضیاء الحق نے اس کو اپنے قدموں تلے روندا یہ کہہ کر کہ یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے اب اسی آئین کو جنرل مشرف نے پامال کیا ضیا ء الحق نے تو اس میں اپنا نام ڈالا اسنے تو اس کو اپنی وردی میں ٹانک دیا تو ہمیں حوالہ دیا جاتا ہے کہ 73 کا آئین تو آپ نے اس کی پاسداری کی د س سال کے بعد جو لسٹ صوبوں کو ملتی کیا اس کو آپ نے صوبوں کو منتقل کیا؟ اس کے قصور وار تو ہم نہیں ہیں کیا اس کے قصور وار بھی وہ تین سردار ہیں ؟کیا وہ تین سردار ہیں جن کو آپ مورد الزام ٹھیراتے رہے ہیں اسکے قصور وار ہیں اگر ان تین سرداروں میں سے ایک نے بھی جو جنرل مشرف نے آرٹیکل 6 کی وائیلیشن کرتے ہوئے اس آئین کو جس کے کہتے ہیں اس آئین کے ساتھ اس نے سات لاکھ فوجیوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا اردو میں کہتے ہیں زنابالجبر کیا ،کیا ان فوجیوں میں کوئی سردار شامل تھا یا ان تینوں سرداروں میں سے کسی ایک کی آشیر باد شامل تھی یہ کہنے میں ہم لوگ حق بجانب ہونگے کہ وہ سردار جو میراثی سردار جو اس کی ڈگڈگی پر رقص کرتے ہیں باعث مجبوری اس میں شامل ہوں گے
وجود ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو آپریشن 1974یا 1973 میں شروع ہوا تھا وہ توذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا تھا اس کی ابتدا نواب اکبر بگٹی کے دور میں ہوئی تھی اس کے بعد یہ آپریشن قلات کے آخری حکمران نواب احمد یارخان کی سرپرستی میں جاری رہا اس سے یہ ظاہر نہیں ہو تا ہے کہ بلوچوں نے بلوچوں کے خلاف آپریشن کیا ؟
سردار اختر مینگل۔نہیں بے چارے بلوچوں کی اتنی حیثیت ہی نہیں ہے ۔
وجود ۔نواب احمد یار خان کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا ؟
سردار اختر مینگل ۔ْ ا نواب احمد یار خان کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا لیکن کب تک وہ بلوچستان کے گورنر رہے ؟
وجود ۔ بھٹو صاحب کی حکومت کے ہٹنے کے بعد وہ بھی ہٹائے گئے ؟
سردار اختر مینگل۔بھٹو کے ہٹائے جانے سے پہلے وہ گئے ہیں ؟
وجود ۔ مگر یہ بات تو ہے کہ نواب اکبر بگٹی اور خان احمد یار خان کے دور میں یہ آپریشن تو کیا گیا ۔
سردار اختر بگٹی ۔جب نیپ کی حکومت کو برخواست کیا گیا نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر بنایا گیا اس وقت یہ تھے مگر کچھ ہی مدت کے بعد آپریشن اپنے عروج کو پہنچا تو انہوں نے استعفیٰ دیدیااس کے بعد وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے تھے اس بات کو ہم مثال بنا کر ہم ہمیشہ ہی بلوچستان کے لوگوں کے خلاف �أپریشن تو نہیں کریں گے
وجود ۔مگر یہ تاریخ کا حصہ تو ہے اور اس کو مٹایا تو نہیں جا سکتا ہے ؟ تو جب بھی بلو چستان کی تاریخ کی بات کی جائے گی یہ سوال تو اٹھایا جائے گا؟ یہ الگ پہلو ہے کہ نواب اکبر بگٹی اس کے بارے میں اب وضاحت کریں ؟
سردار اختر مینگل؟بالکل
وجود ۔ آپ کے والد سردار عطائاللہ مینگل کے ان بیانات سے پاکستان کے عوام بہت متاثر ہوتے تھے کہ ہم پاکستان کو توڑنے نہیں دیں گے اگر ایسا ہوا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے اس طرح کے بیانات ہم پاکستانیوں کو بہت اپیل کرتے تھے اور جو بھی محب وطن پاکستانی ہے وہ اس حوالے سے أپ کے والد سے بہت متاثر تھا؟
سردار اختر مینگل۔اس ملک کی جو بنیادیں ہیں ان میں بنگالیوں کا بھی خون شامل ہے لیکن ان بنگالیوں کے ساتھ کیا ظلم کیا گیا؟اس ظلم کے نتیجے میں بنگالیوں کو مجبور کیا گیا ، خوشی سے ایسٹ پاکستان کو بنگلہ دیش نہیں بنایا گیا ان ظلم و زیادتیوں کے نتیجے میں آج جیسے جو میراثی بیٹھے ہیں ۔ ان کے کہنے پر کہ ہم ان کو کریش کردیں گے یہ کہہ کہہ کرآدھے ملک کی بلی چڑھا دی
وجود۔ آپ نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے پر بیرونی ممالک سے مداخلت کی اپیل کی ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر بیرونی ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں تو مذاکرا ت ہو سکتے ہیں ؟
سردار اختر مینگل۔ ہاں
وجود ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں آپ یہ بات کہہ رہے ہیں جب آپ وزیر اعلی بلوچستان تھے اس وقت اسی طرح کی بات کسی دوسری جانب سے آتی تو آپ اس کو تسلیم کرلیتے ؟
سردار اختر مینگل ۔ہم نے جو یہ تجویز دی وہ ہمیں حالات نے مجبور کیا گزشتہ سال بلوچستان کے حالات اتنے گھمبیر ہوئے تھے تو اس سلسلے میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی پارلیمانی کمیٹی چوہدری شجاعت آئے انہوں نے مذاکرات کئے ایک کمیٹی بنائی گئی مشاہد حسن کی سربراہی میں اور دوسری کمیٹی وسیم سجاد کی سربراہی میں بنائی گئی وسیم سجاد کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی گئی اس کو آئین کمیٹی کا نام دیا گیا اور جو مشاہد حسین کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی وہ کرنٹ ایشو کے سلسلے میں بنائی گئی میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا کہ جس وقت ہم اس کمیٹی کی میٹنگ میں سبقت ہماری جانب سے لی گئی بلکہ جب کمیٹی میں ہم بیٹھے اس کمیٹی کے بیٹھنے سے ایک دن پہلے ہی ہمیں لاشوں کا تحفہ دیا گیا
وجود ۔ یہ کب کی بات ہے ؟
سردار اخترمینگل۔ یہ 29 اگست 2004 کا معاملہ ہے ہم نے اس وقت بھی یہ واضح کردیا تھا کہ دو چیزیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتی ہیں مذاکرات کوئی یر غمالی کے ساتھ کوئی ہائی جیکر ہی کرسکتا ہے تو سب سے پہلے فورسیز کی پوزیشن آپ لوگ وہی بنائیں جو اس دن سے پہلے تھی کیوں کہ ہم فورسیزکی موجودگی میں اس طرح کی بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھے ڈیرہ بگٹی میں فورسیزلگ چکی تھیں تو کہا کہ ٹھیک واپس کرتے ہیں اسی دوران ڈاکٹر ز شازیہ کیس ہو گیا جو ملزموں کو گرفتار کرنے کے بجائے جو اس کیس میں ملوث تھے انہون نے اپنی توپوں کا رخ ڈیرہ بگٹی کی طرف کردیا اگر اس ڈاکٹر شازیہ کیس میں ملوث کوئی سوئلین ہوتا تو بلوچ ہوتا تو شائد اس کا حساب کتاب وہیں پر ہوتا لیکن کیونکہ والد صاحب ان کو کہتے ہیں اہل بیت ،،اہل بیت سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر تھے اس لئے کیونکہ وہ کوئی بھی گناہ کرسکتے ہیں لیکن گناہ کو وہ منظر عام پر لانے کے لئے وہ شرماتے ہیں اس سے ان کی وردی میلی ہوجاتی ہے فوج کا تقدس پامال ہوجاتا ہے لیکن ان ملک کے حفاظت کرنے والے کے سامنے یا ان کے ہاتھوں اس ملک کی بہو بیٹیوں کی عزت پامال ہوتی ہے توسوئلین کا تقدس پامال نہیں ہوتا ہے ملک کا تقدس ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے ان کے سامنے فوجیوں کی جو انا ہے وہ زیادہ اہمیت رکھتی ہے تو مسئلہ جو ہے وہ اس حد تک پہنچے گا کہ ہم لوگوں نے اس کمیٹی سے بائیکاٹ کرلیا تو اسی دوران جب ہم مذکرات کی اس ٹیبل پر تھے تو تمام پارٹیوں نے مشترکہ طور پر تجاویز رکھیں وہ تیس تھے یا انتیس مجھے اس وقت یاد نہیںّ آرہے مگر ایک کو چھوڑ کر باقی سب تسلیم کرلیا اور اس کمیٹی میں انہوں نے باقائدہ ورکنگ پیپر بنایا ہر نکتے پر بات کی گئی کہ یہ نہیں ہونا چاہئے زیادرتیاں ہوئی ہیں اور فورسیز کو واپس جانا چاہئے اور گوادر کے مسئلے کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اس کو ہم کمیٹی کے سامنے رکھیں گے لیکن اگر ہم کمیٹی میں ہوتے توشائد یہ کہتے کہ یہ روکاوٹ ہیں ہم نکل آئے مگر اس پر آج تک عمل نہیں کروایا گیا اگر جنرل مشرف کی وردی ہوتی ایک ہی ہفتے میں منظور ہو جاتی اس کمیٹی کی سفارشات کو اب تک شائع بھی نہیں کیا گیا
وجود ۔ آپ اس کمیٹی کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہیں ؟آج اس پر عمل کردیا جائے ؟
سردار اخترمینگل۔ اب پلوں کے نیچے سے پانی بہت بہہ چکا ہے اس وقت پوزیشن کچھ اور تھی اب کچھ اور ہوچکی ہے اس وقت گھروں میں ان معصوموں کی قبریں نہیں تھیں جو آج انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہے اس وقت بچے یتیم نہیں کئے گئے تھے آج بچے یتیم کئے جاچکے ہیں
وجود بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام یوسف کا کہنا ہے کہ بلوچستان صرف تین یا چار اضلاع میں اس طرح کی صورتحال ہے اور تخریب کاری ہورہی ہے
سردار اختر مینگل جام صاحب کو یہ بات کہتے ہوئے شرم آنا چاہئے کہ اس کے اپنے ضلع بیلہ میں حب میں بھی یہ واقعات ہو رہے ہیں قلات میں مستونگ ،کوئٹہ ، پنجگور، تربت،نصیر آباد میں ہررہے کوئی ضلع بچا ہے کیا سوائے پشتون علاقوں کے لیکن وہاں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں
وجود ایک اخبار جو کراچی حب اور کوئٹہ سے شائع ہوتا ہے اس کے ایڈیٹر نے گزشتہ دنوں اپنے آرٹیکل میں جو انہوں نے ساجدی قبیلے کے سردار کے جنازے کے حوالے سے لکھا اب بلوچستان کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں ایک بلوچ بزرگ نے کہا کہ اکبر خان کے ساتھ ہیں اگر چے عوام دل سے ساتھ ہیں مگر اب خاران کے عوام اس لڑائی میں عملی حصہ نہیں لیں گے ؟ کیا یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب بلوچستان ایک عجیب صورتحال سے گزر رہا ہے
سردار اختر مینگل ۔ اس وقت بلوچستان کے ہر علاقے میں سیاسی طور پر لوگ ہڑتالیں کررہے ہیں جس کی جو سکت ہے وہ کررہا ہے اب انور ساجدی کی طرح کسی کے قلم میں بھری ہوئی سیاہی ڈی پی آر کی بھری ہوئی نہیں ہے کہ وہ اسطرح لکھے میں ایک اور بات بتاؤں کہ ہمیں کہتے ہیں کہ بلوچستان کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں 36 فیصد گیس بلوچستان سے دستیاب ہورہی ہے 1953 میں یہ گیس دریافت ہوئی تھی 1964میں یہ گیس ملتان اور پنڈی کو پہنچی گیارہ سال کے عرصے میں یہ پہنچی 1986میں جب ضیائحق کا دور تھا اس سے پہلے کوئٹہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تھا جب ضیاء الحق کے دور میں کور ہیڈ کوارٹر بنایا تو اس کے لئے وہ گیس لائی گئی پہلے گیس کے وہ ایل پی جی صرف کینٹ کو دی گئی پھر سوئی کی گیس لائی گئی صرف کوئٹہ کو دی اب تک صرف چار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ،مستونگ، قلات نصیر آباد، میں گیس فراہم کی گئی ٹوٹل دو فیصد گیس مل رہی ہے پنجاب کو گیس 38 فیصد مل رہی ہے یہ گیس کس سردار نے روکی ہے اس وقت جو ہمارے بلوچستان کے سربراہ ہیں ان میں گورنر لے لیں آئی جی لے لیں چیف سیکرٹری لے لیں یہ کل 72 ہیں ان میں سے 64 کا تعلق باہر سے ہے باقی جتنے بچے آپ ان کا حساب لگا لیں کل آٹھ بچے
وجود ۔ ان آٹھ میں ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب بھی شامل ہیں
وجود ان آٹھ میں چیف سیکرٹری رند صاحب بھی شامل ہیں ؟
سردار اختر مینگل ۔بنیادی طور پر ان کا تعلق سندھ سے ہے سیکرٹریوں میں سے چار کا تعلق بلوچستان سے ہے بلوچستان میں ساڑھے چھ سو کے قریب چیک پوسٹیں ہیں 35ہزار ایف سی ہیں بارہ ہزار کوسٹ گارڈز ہیں ساڑھے سولا ہزار کے قریب پولیس ہے سوا گیارہ ہزار لیویز ہے چھ ہزار بی آر پی ہے میرین سیکیورٹی فورس دو ہزار ہے اور آرمی کی چار بریگیڈ ہے بلوچستان کی آبادی کے اعتبار سے تناسب نکالیں تو6.5 ملین ہماری آبادی ہے اور ساڑھے چھ سو چیک پوسٹیں ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہر دس ہزار افراد پر ایک چیک پوسٹ ہوتی ہے اور پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اس کو مقبوضہ بلوچستان کیوں نہیں کہتے ہیں ؟تو اس کمیٹی کا میں ذکر کررہا تھا میں نے انٹرنیشنل داروں کوجو دعوت دی تھی وہ اس لئے کہ اب ان سے ہمارا اعتماد ختم ہوگیا ہے وہ لوگ جو ٹیبل پر بیٹھ کر ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں ان سے مذاکرات کی کیا توقع کرسکتے ہیں
وجود۔ مگر یہ کہ دنیا کا جائزہ لے لیں کسی نہ کسی مرحلہ پر بحر حال مذاکرات کئے جاتے ہیں پہلیء جنگ عظیم لے لیں دوسری جنگ عظیم کو لیں خود بلوچوں کی عظیم خانہ جنگی ہی کو لے لیں جو میر چاکر کے دور میں ہوئی مذاکرات تو کئے گئے بحر حال آپ کو مذاکرات تو کرنا ہی پڑیں گے آپ کو بھی اور حکومت کو بھی یہ فطری عمل ہے اوریہ ہوتا ہے اس حوالے سے پھر کیا صورت حال ہوگی آپ نے توابھی اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا ہے کہ حکومت کے کسی بھی نمائندے سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے ؟
سردار اختر مینگل۔ حکومت سے جب ہم انکار کرتے ہیں تو یہ نہیں کہ ہم پاگل ہیں آپ نے بالکل سچ کہا کہ اس کا حل ٹیبل ٹاک ہے58میں جو آپریشن ہواٹیبل ٹاک ہوا تسلی دی گئی کہ غلط ہوا قوموں کی زندگی میں یہ ہوجاتا ہے آئیں ہم مل جل کر بیٹھ کا بات کرتے ہیں اس کے بعد انتخابات ہوئے کہا گیا آپ کو موقع دیا جائے گا جمہوری حکومت آئی نو مہینے کی حکومت اور پانچ سال کی جیل ہوئی 1973میں جو کچھ ہوا جب ضیاء الحق آئے تو انہوں نے کہا کہ زیادتیاں ہوئی ہیں آپ لوگوں کے ساتھ بھٹو کو بھی پھانسی دیدی اس میں بھی کچھ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آیا زیرو بٹہ زیرو پھر جمہوری دور آیا ہمیں تسلیاں دیتے رہے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا اب جنر ل مشرف جب آیا تو ان کے سات نکات میں ایک تو صوبوں میں پائے جانے والی بے چینی کا بھی نکتہ تھا لیکن باقی چھہ کے چھہ اس نے کرا دئے جو اہم تھا جس کی وجہ سے ایک بار پہلے پاکستان ٹوٹا اور آج ہچکولے جو پاکستان لے رہا ہے وہ نواز شریف کے اقتدار کی وجہ سے نہیں کھا رہا ہے بے نظیر کی اقتدار سے محرومی کی وجہ سے نہیں کھا رہا اور اگر آج جو ہچکولے کھا رہا ہے اور آج جو خدانخواستہ اگر کچھ ہوا تو وہ صوبوں کے حقوق سے انکار کی وجہ سے ہوگا لیکن بد قسمتی سے ہر اقتدار میں رہنے والا پچھلے اقتدار میں رہنے والے سے بڑا کفن چور نکلتا ہے وہ تو کفن چرا کر جاتا تھا یہ تو کیل بھی ٹھوک کر جاتا ہے پھر ان سے کس طرح کی توقع کرسکتے ہیں
وجود۔ مگر یہ کہ بحر حال ایسامرحلہ تو آئے گا ؟ تو اس مرحلہ کے لئے کوئی ایسی تجویز آپ کے سامنے ہے کہ جس کے نتیجے میں مذاکرات ہو سکیں ؟
سردار اختر مینگل۔ہماری طرف سے جو تجویز دینی تھی ہم نے تو دے دی ہم نے مختلف ادوار میں ان سے بات چیت کرکے سامنے رکھیں اگر ان کا حافظہ اتنا کمزور ہے تو جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے سامنے جو تجاویز رکھی گئی تھی ان کو کم سے کم وہ مانتے ہیں ۔
وجود۔ اب اگر بات ہوتی ہے کسی مرحلہ میں کمیٹی کی بات مانی جاتی ہے
سردار اختر مینگل۔ اب ہم اس کمیٹی میں ہیں ہی نہیں اب پل کے نیچے سے تو کافی پانی گزر چکا ہے دوسری بڑی بات ہے کہ اس وقت تک وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق جو انہوں نے اپنی پریس کنفرنس میں آعداد وشمار دئیے ہیں چار ہزار کے قریب لوگ گرفتا ہیں یہ جو چار ہزار افراد انہوں نے وہ بتائے ہیں جنہیں وہ عدالت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں مگر کئی سالوں سے جو گرفتار ہیں ادارے والے اور ایجنسی والے ان کو گھروں سے اٹھا کر لے گئے ہیں ان کی لاشوں کے چھتڑے اڑا دئے گئے ہیں حکومت نے اس وقت کوئی گنجائیش نہیں چھوڑی ہے کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں ان کو کوئی حل نکالنا ہے تو ان کو پہلے ان مسائل کا حل نکالنا چاہئے ہم بیٹھیں یا نہیں بیٹھیں ۔
وجود۔ مگر اس سارے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس سارے معاملے میں کوئی ایسی رکاوٹ ہے جس کے نتیجے میں آپ کی بات آگے تک نہیں پہنچ پارہی ہے ؟ ٹیبل ٹاک کی نوبت نہیں آرہی ہے؟ ۔
سردار اختر مینگل۔حکومت کے دو چہرے ہیں جب صدر صاحب کوہلو میں گئے تھے ان پر راکٹوں کے فائر کئے گئے کس نے کئے ؟ آپ کے ادارے ہیں قانون ہے یہ عدالتیں ہیں فائر تو کسی ایک بندے نے کیا ہوگا دو نے کیا ہوگا چار نے کیا ہوگا آٹھ سال کے بچے نے تو فائر نہیں کیاہو گا؟آپ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ گن شپ ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیاروں کے زریعے اس علاقے پر بمباری کرکر کے تباہی مچا دی کیا ہو ا جب پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ اگر صدر پرکوئی راکٹ برسائے گا تو کیا اس کوہار پہنائے جائیں گے ؟ یہ ملک کی سالمیت ہے چلو ہم نے مان لیا ، ویسے تو ہمیں پتہ ہے کہ ملک کی سالمیت کیا ہے ؟لیکن اس سے کچھ دن کے بعد یہاں پر تو ان کو آپ اپنا کہیں نہ کہیں انہوں نے فائر کیا تھا لیکن باہر کے ملک کے جیٹ طیاروں نے وہ آپ کے ملک کے نہیں تھے انہوں نے ٹیک آف بھی یہاں سے نہیں کیا تھا دوسرے ملک سے کیا تھا انہوں نے آپ کے ملک پر آکر حملہ کیا وہاں پر آپ کے ملک کی سالمیت خطرے میں نہیں پڑ گئی یہ وہ حقیقتیں ہیں کہ جس کو آپ تسلیم نہیں کرتے کہ آپ لوگوں کی ملک کی سالمیت بھی آپ کی وردی میں آپ کی انامیں ہیں آپ کی زات ہے تو ملک ہے آپ کی وردی ہے تو ملک ہے اگر ملک نہیں ہوتا تو آج جنرل مشرف ملک کا سہارا لیتے ہوئے اقتدار میں نہ بیٹھتے باوردی صدر نہ بنتے
وجود۔کوئی ایسا نکتہ ہے یا کوئی ایسا پائنٹ ہے جس کی بنیاد پر مذاکرات کئے جا سکیں اگر حکومت کی جانب سے کمیٹی کے نکات کو تسلیم کر لیا جاتا ہے یا لوگوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے
سردار اختر مینگل۔ میں یہ بات پھر وضاحت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کس کے ساتھ مذاکرات؟ وہ بندوق ہاتھ میں لے کر یہ کہتے ہیں کہ میں کرش کردوں گا ؟ ہم ہاتھ جوڑ کر تو یہ نہیں کہتے ہیں کہ مذاکرات کریں ؟
وجود۔اگر کوئی مذاکرات کی صورتحال پیدا ہو تو؟
سردار اختر مینگل۔ ہاں اگر کوئی انسان کا بچہ ہم سے مذاکرات کرنے کے لئے آئے تو ہم اس سے مزاکرات کرنے کے لئے تیار ہیں
وجود ۔ بلوچستان کے صوبائی وزیر اعلیٰ شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ اس وقت بلوچستان میں جو بھی دہشت گردی ہو رہی ہے وہ سب بلوچستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ترقیاتی کاموں کے مخالف سردار کررہے ہیں چونکہ یہ سردار ترقی کے مخالف ہیں اس لئے انہوں نے اپنے آدمیوں کے ذریعے تخریبی کام کروائے ہیں ؟آپ اس پر کیا کہتے ہیں
سردار اختر مینگل۔ شعیب نوشیروانی عبدالکریم نوشیروانی کا بیٹا ہے عبدالکریم نوشیروانی بہت ہوشیار آدمی ہے اس کی تربیت کے زیر اثر اس کا بیٹاشعیب نوشیروانی اس قدر بیوقو ف نہیں ہوسکتا ہے ؟ اس کا کیس بھی ابھی ہائی کورٹ میں پینڈنگ پڑا ہے شعیب نوشیروانی کے خلاف جعلی ڈگری اور کم عمری کا مقدمہ چل رہا ہے ابھی حکومت کے اداروں کے رحم و کرم پر ہے جس کا باپ اس قدر تیز ہے اس کا بیٹا اس قدار نالائق نہیں ہو سکتا ہے کہ آ بیل مجھے مار سرکار کو کہے کہ آپ غلط ہیں یہ سردار صحیح ہیں اس کو اپنی وزارت بھی بچانی اپنی اپم اے کی سیٹ بھی بچانی ہے اور جعلی جو ڈگری کا معاملہ ہے کہ کہیں اس کے خلاف چار سو بیسی کا کیس نہ آجائے یہ سب اس کو بچانی ہے جہاں تک سرداروں کا تعلق ہے کہ سردار ترقی نہیں کرنا چاہتے ہیں مجھے یہ تو بتا یا جائے کہ جنرل مشرف خود اعتراف کرتے ہیں کے بہتر سردار ان کے ساتھ ہیں پھر وہ جو بہتر سردار ان کے ساتھ ہیں ان کا تعلق کسی اورڈسٹرکٹ میں سے تو نہیں ہے جن تین سرداروں کا انہوں نے زکر کیا ہے ایک کا تعلق کوہلو سے ہے ایک کا تعلق خضدار سے ہے نواب بگٹی کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے ہے ان میں سے دو دسٹرکٹ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی ہیں جن کے سردار ہیں ہمارے ڈسٹرکٹ میں تو کئی سردار ہیں ایک سردار نہیں ہے زہری بھی ہے لہڑی ہے بزنجو بھی ساسولی بھی ہے ان دسٹرکٹ جن کے سرداروں کا ان سے تعلق ہے ان میں کس طرح کی ترقی کی گئی ؟شعیب نوشیروانی کا جو ڈسٹرکٹ ہے جس میں ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ پینے کے پانی کے محتاج ہیں چاغئی جس کا نام ایٹمی ڈسٹرکٹ رکھا گیا تھا جہاں پر ایٹمی دھماکہ کیا گیا تھا پچھلے تین سال قبل بلوچستان میں جو قحط آیا تھا چاغئی اسی قحط کی لپیٹ میں آیا تھا تفتان وہاں کا علاقہ ہے وہ سرداروں کا علاقہ تو نہیں ہے ان سرداروں نے تو نہیں روکا وہاں پانی کیوں نہیں فراہم کیا جاتا ہے کل ہمارا لیاری میں جلسہ تھا وہ کیوں پسماندہ ہے وہاں کسی سردار کا نام تو بتائیں ؟ وہاں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ روڈ نہیں کسی پہاڑی علاقے میں گاڑی چلا رہے ہیں مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں لوگ مجبور ہیں کہ گندے نالوں کا پانی پئیں وہاں پر شعیب نوشیروانی جیسے لوگ، یا میراثی شیخ رشید کو کس نے ترقی سے روکاہے ؟اورایسی کئی آپ کو مثالیں ملیں گی میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم وہ ترقی چاہتے ہیں کہ جس سے ہمارا وجود ہمارا قومی تشخص اقلیت میں تبدیل نہ ہو ہم نے یہ نہیں کہا کہ ہم ترقی نہیں چاہتے ہیں کہتے ہیں کہ ترقی دی جائے لیکن جس ترقی کا احساس مجھے ہوگا وہ شائد اسلام آباد میں بیٹھے ہو ئے یا لال کوٹھی میں بیٹھے ہوئے شیخ رشید کو نہیں ہو گا اس ترقی کے اختیارات صوبوں کو کیوں نہیں دئے جاتے ہیں ؟ گوادر کی ترقی اگر بلوچستان کے عوام کے لئے ہے تو بلوچستان کی حکومت ان کی اپنی حکومت ہے ا س میں جام سے لے کر بے ریش یا باریش کیبنٹ کے اراکین بلوچستان کے اپنے ہیں ہم نے یہ نہیں کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا اختیار ان تین سرداروں کو دیا جائے صوبے کو دیا جائے صوبے کی حکومت کو دیاجائے صوبہ کی اسمبلی کو دیا جائے آر سی ڈی روڈ تین ممالک کے تعاون سے یہ بنایا گیا تھا یہ حب سے شروع ہوتا ہے اور تفتان ایران بارڈر تک جاتا ہے یہ تین ممالک کے تعاون سے بنایا گیا ہے آپ اس روڈ کی حالت دیکھیں ، وہ اس وقت ان کی ضرورت کے دائیر ے میں آتا تھا اس وقت تو بنا لیا جب ان کی ضرورتیں پوری ہو گئیں سوئت یونین افغانستان سے نکل گیا اور خود وہ بکھر گیا اب وہ ان کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے اب ان کی ضرورت گوادر میں گوادر کا ساحل ہے آج آپ گوادر کی کوسٹل ہائی وے پر سفر کرکے دیکھیں فرق محسوس ہو جائے گا کوہلوکے علاقے میں بسنے والے آج جنرل صاحب ایک ڈسٹرکٹ ناظم کی دعوت پر کوہلو پہنچتے ہیں وہ ڈسٹرکٹ ناظم کی دعوت نہیں تھی وہ وہاں جو اندر گراؤنڈ جو وسائل ہیں گیس اور پیٹرول کی شکل میں جس نے مقنا طیس کی شکل میں کشش کے طور پر جنرل مشرف کو کھینچ کر وہاں پہنچایا ہے اور ان وسائل کو لوٹنے کے لئے ہمیشہ کا یہ وطیرہ ہے کہ فوج کے زریعے لوٹیں اس کے لئے جنرل صاحب نے کینٹونمنٹ کی بنیاد رکھی ہمارے بلوچستان میں ہر چالیس کلو میٹر پر ایف سی کا چار چار ایکڑ کے برے بڑے قلعے بنے ہوئے ہیں ترقی کیا چھاؤنی یا ایف سی کے قلعوں سے آتی ہے یا ہمیں یہ سمجھایا جائے کہ یہ تمام کے تمام بلوچستان کے علاقے کسی دشمن ممالک کی کی سرحدوں سے ملتے ہیں ؟ کیا وہ اچھا نہ ہوتا ان قلعوں کے بجائے وہاں پر کوئی کالجز بنا دئے جاتے
وجود۔کہا جاتا ہے کہ آپ کے سردار ان کالجز اور تعلیمی اداروں کی مخالفت کرتے ہیں نواب بگٹی کا علاقہ دیکھ لیں رازق بگٹی نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے ان اسکولوں اور کالجوں کو اوطاق بنا رکھا ہے سرداروں نے ان تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو اپنی زاتی استعمال میں لے رکھا ہے؟
سردار اختر مینگل۔رازق بگٹی وہ تو ایک تنخواہ دار ہے اس کو تنخواہ اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ بھونکے، وہ ایک زمانے میں بی ایس او کا چئیرمین تھا اور یہ ہی انقلابی یہاں سے اسٹوڈنٹس کو لے کر افغانستان میں جا تا تھا اور یہ ہی انقلابی حیدرآباد سازش کیس میں بھی ملوث تھا اور آپ کے ضیا ء الحق کے تما م دور میں یہ افغانستان میں رہا یہ کیا اس دور میں وہاں پر ان اسکولوں کا جائیزہ لینے گیا تھا یا وہاں پر ان سرداروں سے مشورہ لینے کے لئے گیا تھا کہ وہاں پر سردار کس طرح سے جھوٹ بولتے ہیں ؟وہ بالکل ایک باغی ہوکرپاکستان اور پاکستان کے حکمرانوں بغاؤت کے طور پر وہاں جاکر بیٹھا تھا
وجود۔مگر اب تو وہ سرداروں کے خلاف بات کرہے ہیں ؟
سردار اختر مینگل۔ کرے گا جی اس کو تنخواہ لینی ہے تنخواہ کے لئے یہ کام کررہا ہے جس شخص کو کوئی اپنے اخبار میں جو چھاپنے کے لئے تیار نہ ہو سڑکوں پر جو اخبار بیچتے ہیں وہ دینے کے لئے تیار نہ ہوبیٹھے بیٹھے پچاس ہزار گھر پر ملیں تو وہ بیچارہ کیوں نہیں بولے گا اور جہاں تک اسکولوں کا تعلق ہے جن علاقوں میں فوج اپنے قلعے بنا سکتی ہے میری اپنی زمین پر تین مقامات پر ایف سی نے قلعے بنا لئے ہیں میری مرضی کے خلاف مجھ سے پوچھے ہوئے قلعے بنا لئے ہیں ایک میں انہوں نے سوایکڑ دوسرے میں پانچ ایکڑ اور تیسرے میں چھ ایکڑ ہے جب اپنی ضرورت کے تحت ہماری زمینوں پر فوجی چھاؤنی بنا سکتے ہیں تو انہوں لوگوں کی ضرورت کے لئے اسکول کیوں قائم نہیں کئے ہیں ؟
وجود۔ یہ الزام عائد کیاجاتا ہے کہ بھارت کی جانب سے بلوچستان میں مداخلت کی جارہی ہے ؟ ان عناصر کوبھارت سے امداد حاصل ہو رہی ہے ؟
سردار اختر مینگل۔ یہ الزامات اس قدر لگے ہیں کہ ہمارے کان ہی پک گئے ہیں ایک زمانے میں جب سوئت یونین تھا تو اس وقت دو ہی سپر پاور کہلاتے تھے ایک طرف امریکہ دوسری طرف سو ئت یونین پاکستانی حکمرانوں اور پاکستان کے مذہبی جماعتوں کی سنگت سوئت یونین کے خلاف تھی اور اور نرم گوشہ وہ امریکنوں کے لئے رکھتے تھے تو ایک ایسا ماحول تھا اس طرح کی ہوا تھی کہ جس پر بھی آپ کے جی بی کے ایجنٹ کا الزام لگا دیتے تھے لوگ آؤ دیکھتے تھے نہ تاؤ1973 میں جب نیپ کی حکومت کو برخواست کیا گیا تو اسلام آباد میں عراق کے سفارتخانے سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا تھا اب عراق والوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ بلوچستان کا بارڈر ایران سے نزدیک ہے یا سمندر سے نزدیک ہے یا مری ہندوستان سے نزدیک ہے انکو ہتھیار اگر پہنچانا ہوتے تو سمندر کی اتنی بڑی پٹی ہے انہوں نے ڈرامہ رچایا کہ تاثر پھیلانے کے لئے کہ دیکھیں جی یہ جو بیرونی امداد ا کا سہار لیا ہے اگر بلوچستان کے قوم پرستوں کے لئے لوگوں کے دل میں ہمدردی ہے تو ہمدردی کو منتقل کریں نفرت کی جانب کہ یہ بیرونی ملک کا سہارا لے کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں کیو نکہ پاکستان کی سالمیت کو انہوں نے اس طرح بنایا ہوا ہے کہ اس کا الزام آپ کسی پر لگا دیں تو جس نے الزام لگا یا ہے اس کے ہاتھ میں تو تلوار ہے جو تماش بین کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ ملک دشمن ہے مار دو اس کو ہمیشہ ہمارے حکمران جو ہیں ہمارے عوام کی اس نادانی کاناجائیز فائدہ اٹھایا ہے اب الزام یہ لگا یا جارہا ہے کہ بھارت سے بلوچستان کے لوگوں کو سپورٹ دی جارہی ہے اب آپ الزام جو لگا رہے ہیں یہ بھی تو دیکھیں آپ خود کیا کررہے ہیں ہندوستان نے یہ غلطی کی کہ ہمیں انسان سمجھ بیٹھے اور انسنانی ہمدردی کے طور پر کہا کہ انسنانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہے تھی یہ ہی بات ایچ آر سی پی کی عاصمہ جہانگیر نے کہی کشمیر میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ہمارے حکمران ہمارا میڈیا سر تاپہ احتجاج ہو جاتا ہے کشمیر کے لوگ انسان ہیں ہم کیا انسان نہیں ہیں ؟اب اپنے گریبان میں تو دیکھیں پھر کسی اور پر انگلی اٹھائیں ؟
وجود۔بلوچستان نیشنل الائینس جس وقت بنائی گئی تھی طویل مدت کے بعد آپ کے والد صاحب اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان اتحاد ہوا تھا مگر اس کے نتیجے میں بزنجو صاحب کو شکست ہوئی مگر اس کے بعد یہ اتحاد دوبارہ قائم نہیں ہو سکا ؟ ا
سردار اختر مینگل1996میں حکومت بنائی وہ ہمارے اتحاد کا مظہر تھا
وجود ۔ بی ایل اے کیا حقیقی تنظیم ہے یا محض دھکوسلہ؟ طاہر بزنجو نے اپنی کتا ب بلوچستان کیا ہوا؟ کیا ہوگا؟کے صفحہ نمبر 153 پر لکھتے ہیں کہ آپ کے والد سردار عطا ء اللہ مینگل نے یہ لندن میں اس وقت قائم کی تھی جب وہ لندن میں جلا وطنی کے دن گزار رہے تھے ؟
سردار اختر مینگل۔یہ تو طاہر بزنجو ہی کو پتہ ہو گا مجھے معلوم نہیں ہے
وجود۔ طاہر بزنجو نے لکھا ہے کہ جب آپ کے والد 80کی دہائی میں لندن گئے تھے اس وقت بی ایل اے بنائی گئی تھی
سردار اختر مینگل۔بی ایل اے کی جو تصویر سامنے آئی ہے وہ تو ابھی چار پانچ سال کے دوران سامنے آئی ہے مشرف کے دور حکومت میں سامنے آئی ہے اس سے پہلے تو نہیں تھی
وجود۔ بحر حال یہ طاہر بزنجو نے اپنی کتاب میں یہ بات لکھی ہے ؟
سردار اختر مینگل۔یہ بات تو طاہر بزنجو ہی کو پتہ ہوگا
وجود۔ جب آپ وزیر اعلیٰ تھے تو آپ نے بلوچستان کے عوام کے لئے کیا کام کئے ؟
سردار اختر مینگل۔ہماری حکومت بنانے میں رکاوٹ کھڑی کی گئیں ؟43کا ہاؤس تھا سب سے بڑی پارٹی ہم تھے جس کے پاس دس سیٹیں تھیں مسلم لیگ نون جے یو آئی اور دیگر پارٹیاں تھیں اس وقت مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے والد صاحب سے بات کی تھی کہ پنجاب میں سندھ میں ،فرنٹیر میں ہماری حکومت بن رہی ہے اور اگر آپ تعاون کریں تو بلوچستان میں بھی ہماری حکو،مت بن سکتی ہے والد صاحب نے کہا کہ اس وقت اکثریت ہماری ہے اس وقت ایک بات دیکھی کہ وہ لوگ جن کا نام ہم اسٹیبلیشمنٹ کہتے ہیں آخری وقت تک ان کی کوشش تھی کہ ہماری حکومت قائم نہ ہو گورنر ہاؤس میں اس وقت کے گورنر بلوچستان جنرل عمران اور وزیر اعلیٰ ظفراللہ جمالی آخری وقت تک کوشش کرتے رہے کہ ہماری حکومت قائم نہ ہو مگر ان کو اس کوشش کو جمہوری جماعتوں اورجمہوری سوچ رکھنے والی قوتوں نے ناکام بنا دیا اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ اگر چہ بلوچستان وسائل کے اعتبار سے خود کفیل ہے مگر ہمیشہ مالی اعتبار سے مرکز کا محتاج رہا ہے کہ وہاں سے امداد آئے کچھ وہ ترقیاتی کام کرے یا صوبے کی انتظامیہ کی تنخواہیں دے اب مجھے یاد ہے کہ ہم پہلا بجٹ جو پیش کرنے کی تیاری کرہے تھے کل ساڑھے سالہ ارب روپے کا ہمارا بجٹ تھا 26ڈسٹرکٹیں تھیں 6.5ملین آبادی اور ساڑھے سولہ ارب اب اس کو کس طرح سے خرچ کرنا تھے ساڑھے سولہ ارب روپیساڑھے بارہ ارب روپے غیر ترقیاتی کاموں میں صرف کئے جانے تھے باقی بچے چار ارب بچے ہم نے اس میں تین ارب روپے ان اسکیموں کے لئے وقف کئے جو کئی سالوں سے پینڈنگ میں پڑی تھیں اور سیاسی بنیادوں پر ان کو روک دیا گیا تھا ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ان پر اتنے اخرجات کئے جاچکے ہیں اگر اس کو ہم روکتے ہیں تو اس کا نقصان صوبے کا ہے جس قدر اس پر خرچ کیا جاچکا ہے کسی کی زاتی جیب سے تو نہیں گیا ہے اس لئے اس کو مکمل تو گیا اب ہمارے پاس بچا تقریبا ایک ارب روپے اب ایک ارب میں ہم کتنے کام کریں ؟ایم پی ایز فنڈ تھے ،جو کچھ بچا تھا اس میں ہم نے 40% تعلیم کی مد میں رکھا ،اگر ہم سردار تعلیم کو ناپسند نہییں کرتے تو نیپ کے دور حکومت میں جو حکومت تھی اس کے وزیر اعلیٰ سردار تھے اس کی صوبائی اسمبلی سے یہ بل سرداری نظام کے خاتمہ کا بل منظور کیا گیا
رازق بگٹی صاحب نے کہا کہ سردار اسکول تعلیمی ادارے قائم نہیں کرنا چاہتے ہیں جس یونیورسٹی سے اس نے تعلیم حاصل کی ہے وہ یونیورسٹی بلوچستان ہے اس کی بنیاد نیپ کی حکومت کے دور میں رکھی گئی بولان میڈیکل کالج اس کی بنیاد نیپ کی حکومت کے دور میں رکھی گئی اگر سردار ترقی کے تعلیم کے خلاف ہوتے اپنی سرداری کو قائم رکھنا چاہتے تو وہ سرداری کے حق میں بل پاس کروا دیتے اور ان یونیورسٹیوں کے خلاف کوئی نہ کوئی قرارداد منظور کروا دیتے تو 40%ہم نے بجٹ کا تعلیم کے لئے رکھا ہمیں ایک بجٹ پیش کرنے کا موقع ملا دوسرا بجٹ ہم نے پیش کیا میں ہمیشہ ہی اس پریشانی میں رہا کہ کس طرح فنڈ حاصل کروں ؟ ہر ماہ کی تنخواہوں کے لئے ہمیں جانا پڑتا تھا ہم یہ سمجھتے تھے کہ جو بھی ہماری لئے مالی مشکلات پیدا کیں گئی وہ اس لئے کی گئیں کہ ہم کوئی کام نہ کرسکیں ہم نے بہت ہی مشکلات میں وقت گزارا29مئی کو پارٹی کی میٹنگ کے دوران ہمیں اطلاع ملی مسلم لیگ نے عدم اعتماد کا موشن موو کردیاجس کے نتیجے میں ہماری حکومت کا خاتمہ ہو گیا
وجود یہ جو تخریب کاری ہورہی ہے یہ ہمارے ہی ملک کا نقصان ہورہا ہے ؟ کیا یہ بلوچوں کا نقصان نہیں ہے ؟
سردار اختر مینگل۔ جی ہاں
وجود ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آپریشن میں آپ کو سب سے بڑا خاندانی نقصان ہوا ہے کہ آپ کے بڑے بھائی مرحوم اسد اللہ مینگل کو شہید کیا گیا
وجود ۔گزشتہ دنوں روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ اب بلوچستان کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں اب کم از کم خاران کے لوگ اس جنگ میں شریک نہیں ہوں گے ؟ آپ کا کیا خیال ہے
سردار اختر مینگل۔ بلوچستان کا مسئلہ نیا نہیں ہے اور نہ ہی اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے اور نہ ہی الجبر ا کا سوال ہے جس کو صرف میتھ میٹکس کا ایکسپرٹ ہی حل کرسکتا ہے جس کو دو اور دو جمع چار کہا جاتا ہے وہ اس طرح کا ہے ۔1947 میں جب پاکستان کی بنیاد رکھی گئی اس وقت بلوچستان ایک آزاد ریاست تھی یہ بات میں واضح کرناچاہتا ہوں کہانگریزوں کی آمد سے پہلے جس طرح سے صوبے تھے جن کو آج کل صوبہ کا درجہ دیا گیا ہے وہ سب ہندوستان کا حصہ تھے بلوچستان وہ واحد ریاست تھی جس کی اپنی آزاد حیثیت تھی انگریزوں کی یلغار کے بعد انہوں نے ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا شروع کردیا انگریزوں نے جو سو سال ہم پر حکمرانی کی اب وہ کس کی جدوجہد سے کس کی قر بانیوں سے یہاں سے وہ گئے اس کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا ہوں وہ تاریخ کا حصہ ہے نہ ہی اس کا کریڈٹ ہم بلوچستان کے لوگ لینا چاہتے ہیں وہ پنا تاریخ میں ایک نام لکھ کر گئے ہیں 1947 میں پاکستان کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو بلوچستان کی ریاست کے دو ایوان تھے ایک ایوان بالا اور دوسرا ایوان زیریں اس وقت یہ رائے لی گئی تھی کہ آپ پاکستان میں رہنا چاہیں گے یا آزاد رہنا چاہیں گے تو پاکستان میں شمولیت کی جو قرارداد تھی وہ ہمارے دونوں ایوانوں نے مسترد کردی تھی
وجود۔ قلات کی ریاست نے ؟
سردار اختر مینگل۔ جی ہاں اس سلسلے میں کوشش ہوتی رہی کہ کوئی کام ہو پھر وہ ہی قراداد جو ہمارے دونوں ایوانوں نے مسترد کردی تھی کوئٹہ کی میونسپل میں پیش کی گئی اور اس کو کوئٹہ میونسپل کمیٹی نے پاس کردی ۔
وجود۔ پاکستان میں شمولیت کی قراداد؟
سردار اختر مینگل ۔ جی ہاں اسی طرح ہمارے دو ایوان تھے ان کی رائے کو مسترد کردیا گیاصرف کوئٹہ میونسپل کمیٹی کی قرار داد کو اپناتے ہوئے نہ صرف ہمیں شامل کردیا گیا بلکہ قلات پر حملہ کر کے ریاست قلات،بلوچستان پر قبضہ کر لیا گیا کسی نے اس کو خوشی کے ساتھ منظور کیا کسی نے اس کو مجبوری کے ساتھ اپنا لیا ایک آزاد ریاست کو آپ کسی ملک میں شامل کرتے ہیں تو کم از کم ان سے برتاؤ تو اس طرح کا رکھا جائے تو کوئی بھی آزادی کا ان کو احساس نہ ہو اور اس کو یہ احساس دلانے کی کوشش کریں کہ یہاں پر بھی آپ بالکل آزاد ہیں لیکن اس کو جب یہ احساس دلانے کی کوشش کریں کہ تمہاری آزادی کے دن ختم ہوگئے ہیں اور تم ایک غلام ہو اور غلام بن کر ہی اس ملک میں رہ سکتے ہوساڑھے تین لاکھ کلو میٹر رقبہ ہے بلوچستان کا اور آٹھ سو میل کا ہمارا ساحل ہے پہلا آپریشن جو بلوچستان میں کیا گیا وہ 1958 میں کیا گیا پھر اس میں کچھ عرصہ اس میں کمی آئی پھر اس میں 1960میں تیزی آگئی اور آپریشن اپنے عروج پر پہنچ گیا1973 میں اس ملک میں جو جمہوریت آئی تھی وہ مرہون منت یہاں کی اسٹیبلیشمنٹ یا فوج کی نہیں ہے وہ یہاں کے حالات تھے جو بنگلہ دیش جانے کے بعد یہاں کی ایک لاکھ فوج ہندوستان میں جنگی قیدی بن کر رہ رہی تھی ان حالات کی بدولت تھے کہ ہمیں کچھ عرصے کیلئے جمہوریت کی کرن نظر آئی لیکن بد قسمتی سے اس وقت جمہوریت کے چمپئینوں نے بلوچستان کے مسئلے کو فوج کے ذریعے سے حل کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پانچ سال تک بلوچستان کے ریگستان، نخلستان، ان ہی فوجیوں کے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کی بم باری کی نظر ہو گئے اب آپ نے پوچھا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے یہ وہ پس منظر ہے جو میں نے پیش کیا ہے اب ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟من حیثیت القوم ہمیں بلوچ رہنے کا حق ہے جب اس ملک میں ہمیں شامل کیا گیا کس بد بخت نے آپ لوگوں کو یہ لکھ کر دیا تھا آپ لوگوں کو کہ ہم اپنے قومی وجود سے دستبردار ہوں اگر کوئی ایسی ڈاکو مینٹیشن ہے تو وہ ہمیں دکھائیں ؟تو کیوں ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم اپنے آپ کوجب بلوچ کہلاتے ہیں تو کہے ہیں کہ قوم پرست ہیں ملک کے غدار ہیں پاکستان کی عمر 58 سال ہے بلوچوں کی عمر ہزاروں سال ہے تو جب پاکستان ہمارے ہزاروں سال کے وجود کا انکاری ہے تو کیا ہمیں بھی یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ ہم بھی 58 برس کے وجود کا انکار کیوں نہیں کریں یہ میں پس منظر بتا رہا ہوں چلو جو کچھہ ہوا اس پر ہم بات نہیں کرتے ہیں 1970میں آج جو صورتحال بلوچستان کی ہے آ ج وہ پاکستان نہیں ہے جو 1970 میں تھاآج جو آپ کہتے ہیں پاکستان اس وقت آپ کہتے تھے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان وہ حصہ گیا کہاں ؟کیا کوئی بکرا اس کو کھا گیا ؟کیا کاغذ کا کوئی نقشہ تھا جس کو ہوا کا ایک جھونکا اٹھا کر لے گیا ؟یا سمندر کے کنارے ریت کا کوئی ٹیلہ تھا جس کو سمندر کی لہر اپنے ساتھ بہا کر لے گئی آپ کے ملک کا حصہ تھا کیوں گیا وہ ؟کس کی نالائقیوں کی وجہ سے کس کی ستم ظریفیوں کس کے ظلموں کی وجہ سے ؟ ان بنگالیوں نے جنہوں نے سب سے زیادہ پاکستان کو بنانے میں قربانیاں دیں ان ہی بنگالیوں کو مجبور کیا گیا بنگالی یہ نعرہ لگاتے تھے کہ لے کر رہیں گے پاکستان اور پاکستان کو اللہ حافظ کہہ کر پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دے کر بیٹھ گئے مجیب الرحمان سردار تو نہیں تھا آج پرویزمشرف کہتے ہیں کہ سردار ہیں مجیب الرحمان تو سردار نہیں تھا بنگال میں کسی ایک سردار کا نام تو لیں ،پھر وہاں شور ش کیوں اٹھی ؟وہاں پر یہ نفرت کے بیج کس نے بوئے تھے ؟آج ہمارے سامنے بنگلہ دیش سامنے نہیں ہے تو کم سے کم وہ لوگ وہ ادارے جس کو آپ اسٹیبلیشمنٹ کا نام دیتے ہیں جس کو آپ فوض کا نام دیتے ہیں وہ تو اپنی جگہ قائم ہیں کسی نے بھی کسی نے بھی ان سے پوچھا ہے کہ ملک کا وہ حصہ جو ہم سے گیا ہے اس کا زمہ دار کون ہے ؟ چلو ان سے آپ نہ پوچھیں ان سے تو آپ کو جان خلاصی کرنا تھی ان فوجیوں سے پوچھتے جو ایک لاکھ کی تعداد میں جو آپ کے سجیلے جوان تھے ہتھیار ڈال کر وہاں سے آئے کیا ان میں سے کسی کو سزا دی گئی ہے میں جنرلوں کی بات نہیں کرتا کسی ایک سپاہی کا بھی کورٹ مارشل کیا گیا ؟ وہاں سے فارغ ہو کر ہندوستان میں جو آپ کو مار پٹی تھی اس کا بدلہ لینے کے لئے آپ نے ان کو اختیارات دئے کہ جا کر اپنا بدلا بلوچستان میں لیں تو بلو چستان کا مسئلہ بنیادی طور پر وہ مسئلہ ہے جو ایک محکوم قوم ہے میں نہیں سمجھتا ہوں کہ صرف بلوچستان کا مسئلہ ہے جو ہماری ڈیمانڈ ہییا بلوچستان کے لوگ جس چیز کا مطالبہ کررہے ہیں ہم سب کے لئے یہاں پر بسنے والے سندھیوں کے لئے اس ملک میں بسنے والے پشتونوں کے لئے نہ صرف ان تینوں کے لئے بلکہ جواختیارات اپنے لئے مانگ رہے ہیں وہی اختیارات ہم پنجاب کے لئے بھی مانگ رہے ہیں لیکن بد قسمتی اس ملک کی یہ کہ آپ حکومت کے میراثی بن کر جوغلط کام کریں آپ پر کوئی انگلی اٹھانے والا نہیں ہے لیکن آپ اپنے حق کی آوازاٹھا کر حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہوجائیں تو آپ کا نام غداروں کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا تو آج بلوچستان کے لوگوں کو سزادی جارہی ہے
وجود۔ ان مسائل کا زمہ دار کون ہے ؟
سردار اختر مینگل۔بلوچستان پر جو زیادتیاں ہوتی رہی ہیں اس کی زمہ دار صرف فوج نہیں ہے دیکھیں میری رائے یہ ہے کہ جمہوری نظام چلانے کے لے لئے چار ستون ہیں ان میں ایک پارلیمنٹ ، عدلیہ،انتظامیہ ، پریس، شامل ہیں لیکن اس ملک کے اقتدار کو کرسی کو سنبھالنے والے دو شعبہ ہیں ایک ہے جمہوری طریقے سے اقتدار کو سنبھالنے والی قومی اسمبلی اور دوسری ہے فوج اور دونوں کی بنیاد رکھی ہوئی پنجاب پرفوج کا تعلق پنجاب سے ہیبلوچستان کا تو زکر ہی نہیں ہے دوائی کے نام پر بھی آپ ڈھونڈیں گے تو مشکل سے آپ کو ملے گا
وجود ۔ بلوچستان کے عبدالقادربلوچ تو ہیں ؟
سردار اختر مینگل ۔ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
وجود ۔ مگر لیفٹنٹ جنرل تک تو پہنچے ؟
سردار اختر مینگل۔مگر معلوم نہیں کہ کس طرح وہ لیفٹنٹ جنرل بنا ؟ مگر ایک ہی مثال ہے وہ 58 سالوں میں ایک جنرل بنا اس کو گورنر بھی بنایا گیا اس کے بعد پرائیوٹ کمپنیوں میں نوکریاں کرتا پھر رہا ہے ۔ ان دونوں کا دارو مدار پنجاب پر ہے آپ فوج کو پنجاب سے جدا نہیں کرسکتے ہیں یہ وجہ ہے کہ ان چھوٹے صوبوں پر پنجابکی طرف جو ظلم و زیادتیاں ہوتی ہیں ان پر فوج شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے
وجود ۔ اس صورتحال کا کیا حل ہے؟ اس کا کوئی حل ہے جو اس شکائت کو رفع کرسکے؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہ شکائت پورے پاکستان میں پنجاب کے خلاف کی جاتی ہے حتیٰ کہ کود پنجاب میں بھی اسی طرح کی شکائت کی جاتی رہی ہے اس کا کیا حل ہے ؟کیا اس طرح کا کوئی حل نکالا جاسکتا ہے جس طرح 1973کے آئین میں رکھا گیا کہ سینٹ کی صورت میں ایک ایسا ادارہ قائم کردیا گیا جس میں تمام صوبوں کے اختیارات برابر سے دئے گئے ہیں ؟
سردار اختر مینگل۔ لیکن اس کے اختیارات کیا ہیں ؟سینٹ کے اختیارات کیا ہیں ؟
وجود کیا ایسی صورت حال میں سینٹ کے اختیارات کو بڑھانے کی تجاویز پیش کی جائے؟
سردار اخترمینگل۔ نہیں اب جو آئین ہے اس کو آپ لوگوں نے اتنا پیچیدہ کردیا ہے کہ ترامیم لا لا کہ ایک آدھ اختیارات میں اضافہ کریں تو کہیں اور سے ڈنڈی لگ رہی ہوتی ہے جو ہم نے تجویز دی تھی پونم کے اجلاس میں کہ اس آئین کا تو آپ نے حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے اگر صوبوں کے اختیارات کے حوالے سے ایک ترمیم لائیں تو دوسری شق سے اس سے بڑا نقصان پہنچے گا تو ان صوبوں کو مطمئین کرنے کے لئے تین شعبوں کو علاوہ تمام شعبے صوبوں کو منتقل کردئے جائیں ۔ ان میں دفاع، خارجہ پالیسی، اور کرنسی ان کے پاس فائننشل پاور ہیں اس لئے یہ صرف نوٹ چھاپیں جتنے دل چاہیں چھاپیں اور ان اختیارات کو آپ صوبوں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو آئین کی ہر شق میں تبدیلی لانا پڑے گی اس کے لئے بہتر ہوگا کہ نئی آئین ساز اسمبلی منتخب کی جائے یہ پونم کی قرارداد ہے کہ نئی آئین ساز اسمبلی برابری کی بنیاد پر منتخب کی جائے وہ ممبران منتخب کئے جائیں لیکن ایسے الیکشن کمیشن کے زریعے منتخب نہ کئے جائیں جو بلدیاتی الیکشنوں میں بھی دھاندلی کرتے ہوں
وجود ا الیکشن کمیشن کی ضمانت کون دے گا ؟الیکشن کمیشن تو موجودہ حکومت ہی بنوائے گی �آپ اس کوکس بنیاد پر تسلیم کریں گے ؟
سردار اختر مینگل ۔ قوموں کے معاملات جب اس حد تک چلے جاتے ہیں جب ایک دوسرے پر اعتماد کرنا مشکل ہوجائے تو اس کے لئے بین الاقوامی اداروں کو یا اقوام متحدہ سے درخواست کرسکتے ہیں کے ان کی سربراہی میں یا ان کی مانٹیرنگ میں کرائے جائیں یہ آج کی موجودہ صورتحال میں ہم بات نہیں کررہے ہیں یہ اس وقت کی ہماری ڈیمانڈ ہے یہ پونم کی جانب سے رکھا گیا تھا
وجود۔ان مسائل کے حل کیا کیا ہیں؟
سردار اختر مینگل۔ہم بڑی مدت سے اس بات کی ڈیمانڈ کرتے چلے آرہے ہیں کہ صوبوں کومکمل اختیارات دئے جائیں رٹ لگا رکھی تھی کہ 73 کا آئین چلو آپ ہی اسکے پاسبان ہیں آپ ہی اس کے خالق ہیں لیکن یہ تو بتائیں کے ضیاء الحق نے اس کو اپنے قدموں تلے روندا یہ کہہ کر کہ یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے اب اسی آئین کو جنرل مشرف نے پامال کیا ضیا ء الحق نے تو اس میں اپنا نام ڈالا اسنے تو اس کو اپنی وردی میں ٹانک دیا تو ہمیں حوالہ دیا جاتا ہے کہ 73 کا آئین تو آپ نے اس کی پاسداری کی د س سال کے بعد جو لسٹ صوبوں کو ملتی کیا اس کو آپ نے صوبوں کو منتقل کیا؟ اس کے قصور وار تو ہم نہیں ہیں کیا اس کے قصور وار بھی وہ تین سردار ہیں ؟کیا وہ تین سردار ہیں جن کو آپ مورد الزام ٹھیراتے رہے ہیں اسکے قصور وار ہیں اگر ان تین سرداروں میں سے ایک نے بھی جو جنرل مشرف نے آرٹیکل 6 کی وائیلیشن کرتے ہوئے اس آئین کو جس کے کہتے ہیں اس آئین کے ساتھ اس نے سات لاکھ فوجیوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا اردو میں کہتے ہیں زنابالجبر کیا ،کیا ان فوجیوں میں کوئی سردار شامل تھا یا ان تینوں سرداروں میں سے کسی ایک کی آشیر باد شامل تھی یہ کہنے میں ہم لوگ حق بجانب ہونگے کہ وہ سردار جو میراثی سردار جو اس کی ڈگڈگی پر رقص کرتے ہیں باعث مجبوری اس میں شامل ہوں گے
وجود ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو آپریشن 1974یا 1973 میں شروع ہوا تھا وہ توذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہوا تھا اس کی ابتدا نواب اکبر بگٹی کے دور میں ہوئی تھی اس کے بعد یہ آپریشن قلات کے آخری حکمران نواب احمد یارخان کی سرپرستی میں جاری رہا اس سے یہ ظاہر نہیں ہو تا ہے کہ بلوچوں نے بلوچوں کے خلاف آپریشن کیا ؟
سردار اختر مینگل۔نہیں بے چارے بلوچوں کی اتنی حیثیت ہی نہیں ہے ۔
وجود ۔نواب احمد یار خان کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا ؟
سردار اختر مینگل ۔ْ ا نواب احمد یار خان کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا تھا لیکن کب تک وہ بلوچستان کے گورنر رہے ؟
وجود ۔ بھٹو صاحب کی حکومت کے ہٹنے کے بعد وہ بھی ہٹائے گئے ؟
سردار اختر مینگل۔بھٹو کے ہٹائے جانے سے پہلے وہ گئے ہیں ؟
وجود ۔ مگر یہ بات تو ہے کہ نواب اکبر بگٹی اور خان احمد یار خان کے دور میں یہ آپریشن تو کیا گیا ۔
سردار اختر بگٹی ۔جب نیپ کی حکومت کو برخواست کیا گیا نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر بنایا گیا اس وقت یہ تھے مگر کچھ ہی مدت کے بعد آپریشن اپنے عروج کو پہنچا تو انہوں نے استعفیٰ دیدیااس کے بعد وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے تھے اس بات کو ہم مثال بنا کر ہم ہمیشہ ہی بلوچستان کے لوگوں کے خلاف �أپریشن تو نہیں کریں گے
وجود ۔مگر یہ تاریخ کا حصہ تو ہے اور اس کو مٹایا تو نہیں جا سکتا ہے ؟ تو جب بھی بلو چستان کی تاریخ کی بات کی جائے گی یہ سوال تو اٹھایا جائے گا؟ یہ الگ پہلو ہے کہ نواب اکبر بگٹی اس کے بارے میں اب وضاحت کریں ؟
سردار اختر مینگل؟بالکل
وجود ۔ آپ کے والد سردار عطائاللہ مینگل کے ان بیانات سے پاکستان کے عوام بہت متاثر ہوتے تھے کہ ہم پاکستان کو توڑنے نہیں دیں گے اگر ایسا ہوا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے اس طرح کے بیانات ہم پاکستانیوں کو بہت اپیل کرتے تھے اور جو بھی محب وطن پاکستانی ہے وہ اس حوالے سے أپ کے والد سے بہت متاثر تھا؟
سردار اختر مینگل۔اس ملک کی جو بنیادیں ہیں ان میں بنگالیوں کا بھی خون شامل ہے لیکن ان بنگالیوں کے ساتھ کیا ظلم کیا گیا؟اس ظلم کے نتیجے میں بنگالیوں کو مجبور کیا گیا ، خوشی سے ایسٹ پاکستان کو بنگلہ دیش نہیں بنایا گیا ان ظلم و زیادتیوں کے نتیجے میں آج جیسے جو میراثی بیٹھے ہیں ۔ ان کے کہنے پر کہ ہم ان کو کریش کردیں گے یہ کہہ کہہ کرآدھے ملک کی بلی چڑھا دی
وجود۔ آپ نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے پر بیرونی ممالک سے مداخلت کی اپیل کی ہے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر بیرونی ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں تو مذاکرا ت ہو سکتے ہیں ؟
سردار اختر مینگل۔ ہاں
وجود ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں آپ یہ بات کہہ رہے ہیں جب آپ وزیر اعلی بلوچستان تھے اس وقت اسی طرح کی بات کسی دوسری جانب سے آتی تو آپ اس کو تسلیم کرلیتے ؟
سردار اختر مینگل ۔ہم نے جو یہ تجویز دی وہ ہمیں حالات نے مجبور کیا گزشتہ سال بلوچستان کے حالات اتنے گھمبیر ہوئے تھے تو اس سلسلے میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی پارلیمانی کمیٹی چوہدری شجاعت آئے انہوں نے مذاکرات کئے ایک کمیٹی بنائی گئی مشاہد حسن کی سربراہی میں اور دوسری کمیٹی وسیم سجاد کی سربراہی میں بنائی گئی وسیم سجاد کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی گئی اس کو آئین کمیٹی کا نام دیا گیا اور جو مشاہد حسین کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی وہ کرنٹ ایشو کے سلسلے میں بنائی گئی میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا کہ جس وقت ہم اس کمیٹی کی میٹنگ میں سبقت ہماری جانب سے لی گئی بلکہ جب کمیٹی میں ہم بیٹھے اس کمیٹی کے بیٹھنے سے ایک دن پہلے ہی ہمیں لاشوں کا تحفہ دیا گیا
وجود ۔ یہ کب کی بات ہے ؟
سردار اخترمینگل۔ یہ 29 اگست 2004 کا معاملہ ہے ہم نے اس وقت بھی یہ واضح کردیا تھا کہ دو چیزیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتی ہیں مذاکرات کوئی یر غمالی کے ساتھ کوئی ہائی جیکر ہی کرسکتا ہے تو سب سے پہلے فورسیز کی پوزیشن آپ لوگ وہی بنائیں جو اس دن سے پہلے تھی کیوں کہ ہم فورسیزکی موجودگی میں اس طرح کی بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھے ڈیرہ بگٹی میں فورسیزلگ چکی تھیں تو کہا کہ ٹھیک واپس کرتے ہیں اسی دوران ڈاکٹر ز شازیہ کیس ہو گیا جو ملزموں کو گرفتار کرنے کے بجائے جو اس کیس میں ملوث تھے انہون نے اپنی توپوں کا رخ ڈیرہ بگٹی کی طرف کردیا اگر اس ڈاکٹر شازیہ کیس میں ملوث کوئی سوئلین ہوتا تو بلوچ ہوتا تو شائد اس کا حساب کتاب وہیں پر ہوتا لیکن کیونکہ والد صاحب ان کو کہتے ہیں اہل بیت ،،اہل بیت سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر تھے اس لئے کیونکہ وہ کوئی بھی گناہ کرسکتے ہیں لیکن گناہ کو وہ منظر عام پر لانے کے لئے وہ شرماتے ہیں اس سے ان کی وردی میلی ہوجاتی ہے فوج کا تقدس پامال ہوجاتا ہے لیکن ان ملک کے حفاظت کرنے والے کے سامنے یا ان کے ہاتھوں اس ملک کی بہو بیٹیوں کی عزت پامال ہوتی ہے توسوئلین کا تقدس پامال نہیں ہوتا ہے ملک کا تقدس ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے ان کے سامنے فوجیوں کی جو انا ہے وہ زیادہ اہمیت رکھتی ہے تو مسئلہ جو ہے وہ اس حد تک پہنچے گا کہ ہم لوگوں نے اس کمیٹی سے بائیکاٹ کرلیا تو اسی دوران جب ہم مذکرات کی اس ٹیبل پر تھے تو تمام پارٹیوں نے مشترکہ طور پر تجاویز رکھیں وہ تیس تھے یا انتیس مجھے اس وقت یاد نہیںّ آرہے مگر ایک کو چھوڑ کر باقی سب تسلیم کرلیا اور اس کمیٹی میں انہوں نے باقائدہ ورکنگ پیپر بنایا ہر نکتے پر بات کی گئی کہ یہ نہیں ہونا چاہئے زیادرتیاں ہوئی ہیں اور فورسیز کو واپس جانا چاہئے اور گوادر کے مسئلے کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اس کو ہم کمیٹی کے سامنے رکھیں گے لیکن اگر ہم کمیٹی میں ہوتے توشائد یہ کہتے کہ یہ روکاوٹ ہیں ہم نکل آئے مگر اس پر آج تک عمل نہیں کروایا گیا اگر جنرل مشرف کی وردی ہوتی ایک ہی ہفتے میں منظور ہو جاتی اس کمیٹی کی سفارشات کو اب تک شائع بھی نہیں کیا گیا
وجود ۔ آپ اس کمیٹی کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہیں ؟آج اس پر عمل کردیا جائے ؟
سردار اخترمینگل۔ اب پلوں کے نیچے سے پانی بہت بہہ چکا ہے اس وقت پوزیشن کچھ اور تھی اب کچھ اور ہوچکی ہے اس وقت گھروں میں ان معصوموں کی قبریں نہیں تھیں جو آج انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہے اس وقت بچے یتیم نہیں کئے گئے تھے آج بچے یتیم کئے جاچکے ہیں
وجود بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام یوسف کا کہنا ہے کہ بلوچستان صرف تین یا چار اضلاع میں اس طرح کی صورتحال ہے اور تخریب کاری ہورہی ہے
سردار اختر مینگل جام صاحب کو یہ بات کہتے ہوئے شرم آنا چاہئے کہ اس کے اپنے ضلع بیلہ میں حب میں بھی یہ واقعات ہو رہے ہیں قلات میں مستونگ ،کوئٹہ ، پنجگور، تربت،نصیر آباد میں ہررہے کوئی ضلع بچا ہے کیا سوائے پشتون علاقوں کے لیکن وہاں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں
وجود ایک اخبار جو کراچی حب اور کوئٹہ سے شائع ہوتا ہے اس کے ایڈیٹر نے گزشتہ دنوں اپنے آرٹیکل میں جو انہوں نے ساجدی قبیلے کے سردار کے جنازے کے حوالے سے لکھا اب بلوچستان کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں ایک بلوچ بزرگ نے کہا کہ اکبر خان کے ساتھ ہیں اگر چے عوام دل سے ساتھ ہیں مگر اب خاران کے عوام اس لڑائی میں عملی حصہ نہیں لیں گے ؟ کیا یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب بلوچستان ایک عجیب صورتحال سے گزر رہا ہے
سردار اختر مینگل ۔ اس وقت بلوچستان کے ہر علاقے میں سیاسی طور پر لوگ ہڑتالیں کررہے ہیں جس کی جو سکت ہے وہ کررہا ہے اب انور ساجدی کی طرح کسی کے قلم میں بھری ہوئی سیاہی ڈی پی آر کی بھری ہوئی نہیں ہے کہ وہ اسطرح لکھے میں ایک اور بات بتاؤں کہ ہمیں کہتے ہیں کہ بلوچستان کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں 36 فیصد گیس بلوچستان سے دستیاب ہورہی ہے 1953 میں یہ گیس دریافت ہوئی تھی 1964میں یہ گیس ملتان اور پنڈی کو پہنچی گیارہ سال کے عرصے میں یہ پہنچی 1986میں جب ضیائحق کا دور تھا اس سے پہلے کوئٹہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تھا جب ضیاء الحق کے دور میں کور ہیڈ کوارٹر بنایا تو اس کے لئے وہ گیس لائی گئی پہلے گیس کے وہ ایل پی جی صرف کینٹ کو دی گئی پھر سوئی کی گیس لائی گئی صرف کوئٹہ کو دی اب تک صرف چار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ،مستونگ، قلات نصیر آباد، میں گیس فراہم کی گئی ٹوٹل دو فیصد گیس مل رہی ہے پنجاب کو گیس 38 فیصد مل رہی ہے یہ گیس کس سردار نے روکی ہے اس وقت جو ہمارے بلوچستان کے سربراہ ہیں ان میں گورنر لے لیں آئی جی لے لیں چیف سیکرٹری لے لیں یہ کل 72 ہیں ان میں سے 64 کا تعلق باہر سے ہے باقی جتنے بچے آپ ان کا حساب لگا لیں کل آٹھ بچے
وجود ۔ ان آٹھ میں ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب بھی شامل ہیں
وجود ان آٹھ میں چیف سیکرٹری رند صاحب بھی شامل ہیں ؟
سردار اختر مینگل ۔بنیادی طور پر ان کا تعلق سندھ سے ہے سیکرٹریوں میں سے چار کا تعلق بلوچستان سے ہے بلوچستان میں ساڑھے چھ سو کے قریب چیک پوسٹیں ہیں 35ہزار ایف سی ہیں بارہ ہزار کوسٹ گارڈز ہیں ساڑھے سولا ہزار کے قریب پولیس ہے سوا گیارہ ہزار لیویز ہے چھ ہزار بی آر پی ہے میرین سیکیورٹی فورس دو ہزار ہے اور آرمی کی چار بریگیڈ ہے بلوچستان کی آبادی کے اعتبار سے تناسب نکالیں تو6.5 ملین ہماری آبادی ہے اور ساڑھے چھ سو چیک پوسٹیں ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہر دس ہزار افراد پر ایک چیک پوسٹ ہوتی ہے اور پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اس کو مقبوضہ بلوچستان کیوں نہیں کہتے ہیں ؟تو اس کمیٹی کا میں ذکر کررہا تھا میں نے انٹرنیشنل داروں کوجو دعوت دی تھی وہ اس لئے کہ اب ان سے ہمارا اعتماد ختم ہوگیا ہے وہ لوگ جو ٹیبل پر بیٹھ کر ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں ان سے مذاکرات کی کیا توقع کرسکتے ہیں
وجود۔ مگر یہ کہ دنیا کا جائزہ لے لیں کسی نہ کسی مرحلہ پر بحر حال مذاکرات کئے جاتے ہیں پہلیء جنگ عظیم لے لیں دوسری جنگ عظیم کو لیں خود بلوچوں کی عظیم خانہ جنگی ہی کو لے لیں جو میر چاکر کے دور میں ہوئی مذاکرات تو کئے گئے بحر حال آپ کو مذاکرات تو کرنا ہی پڑیں گے آپ کو بھی اور حکومت کو بھی یہ فطری عمل ہے اوریہ ہوتا ہے اس حوالے سے پھر کیا صورت حال ہوگی آپ نے توابھی اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا ہے کہ حکومت کے کسی بھی نمائندے سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے ؟
سردار اختر مینگل۔ حکومت سے جب ہم انکار کرتے ہیں تو یہ نہیں کہ ہم پاگل ہیں آپ نے بالکل سچ کہا کہ اس کا حل ٹیبل ٹاک ہے58میں جو آپریشن ہواٹیبل ٹاک ہوا تسلی دی گئی کہ غلط ہوا قوموں کی زندگی میں یہ ہوجاتا ہے آئیں ہم مل جل کر بیٹھ کا بات کرتے ہیں اس کے بعد انتخابات ہوئے کہا گیا آپ کو موقع دیا جائے گا جمہوری حکومت آئی نو مہینے کی حکومت اور پانچ سال کی جیل ہوئی 1973میں جو کچھ ہوا جب ضیاء الحق آئے تو انہوں نے کہا کہ زیادتیاں ہوئی ہیں آپ لوگوں کے ساتھ بھٹو کو بھی پھانسی دیدی اس میں بھی کچھ حل ہوتا ہوا نظر نہیں آیا زیرو بٹہ زیرو پھر جمہوری دور آیا ہمیں تسلیاں دیتے رہے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا اب جنر ل مشرف جب آیا تو ان کے سات نکات میں ایک تو صوبوں میں پائے جانے والی بے چینی کا بھی نکتہ تھا لیکن باقی چھہ کے چھہ اس نے کرا دئے جو اہم تھا جس کی وجہ سے ایک بار پہلے پاکستان ٹوٹا اور آج ہچکولے جو پاکستان لے رہا ہے وہ نواز شریف کے اقتدار کی وجہ سے نہیں کھا رہا ہے بے نظیر کی اقتدار سے محرومی کی وجہ سے نہیں کھا رہا اور اگر آج جو ہچکولے کھا رہا ہے اور آج جو خدانخواستہ اگر کچھ ہوا تو وہ صوبوں کے حقوق سے انکار کی وجہ سے ہوگا لیکن بد قسمتی سے ہر اقتدار میں رہنے والا پچھلے اقتدار میں رہنے والے سے بڑا کفن چور نکلتا ہے وہ تو کفن چرا کر جاتا تھا یہ تو کیل بھی ٹھوک کر جاتا ہے پھر ان سے کس طرح کی توقع کرسکتے ہیں
وجود۔ مگر یہ کہ بحر حال ایسامرحلہ تو آئے گا ؟ تو اس مرحلہ کے لئے کوئی ایسی تجویز آپ کے سامنے ہے کہ جس کے نتیجے میں مذاکرات ہو سکیں ؟
سردار اختر مینگل۔ہماری طرف سے جو تجویز دینی تھی ہم نے تو دے دی ہم نے مختلف ادوار میں ان سے بات چیت کرکے سامنے رکھیں اگر ان کا حافظہ اتنا کمزور ہے تو جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کے سامنے جو تجاویز رکھی گئی تھی ان کو کم سے کم وہ مانتے ہیں ۔
وجود۔ اب اگر بات ہوتی ہے کسی مرحلہ میں کمیٹی کی بات مانی جاتی ہے
سردار اختر مینگل۔ اب ہم اس کمیٹی میں ہیں ہی نہیں اب پل کے نیچے سے تو کافی پانی گزر چکا ہے دوسری بڑی بات ہے کہ اس وقت تک وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق جو انہوں نے اپنی پریس کنفرنس میں آعداد وشمار دئیے ہیں چار ہزار کے قریب لوگ گرفتا ہیں یہ جو چار ہزار افراد انہوں نے وہ بتائے ہیں جنہیں وہ عدالت کے سامنے پیش کرسکتے ہیں مگر کئی سالوں سے جو گرفتار ہیں ادارے والے اور ایجنسی والے ان کو گھروں سے اٹھا کر لے گئے ہیں ان کی لاشوں کے چھتڑے اڑا دئے گئے ہیں حکومت نے اس وقت کوئی گنجائیش نہیں چھوڑی ہے کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں ان کو کوئی حل نکالنا ہے تو ان کو پہلے ان مسائل کا حل نکالنا چاہئے ہم بیٹھیں یا نہیں بیٹھیں ۔
وجود۔ مگر اس سارے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس سارے معاملے میں کوئی ایسی رکاوٹ ہے جس کے نتیجے میں آپ کی بات آگے تک نہیں پہنچ پارہی ہے ؟ ٹیبل ٹاک کی نوبت نہیں آرہی ہے؟ ۔
سردار اختر مینگل۔حکومت کے دو چہرے ہیں جب صدر صاحب کوہلو میں گئے تھے ان پر راکٹوں کے فائر کئے گئے کس نے کئے ؟ آپ کے ادارے ہیں قانون ہے یہ عدالتیں ہیں فائر تو کسی ایک بندے نے کیا ہوگا دو نے کیا ہوگا چار نے کیا ہوگا آٹھ سال کے بچے نے تو فائر نہیں کیاہو گا؟آپ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ گن شپ ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیاروں کے زریعے اس علاقے پر بمباری کرکر کے تباہی مچا دی کیا ہو ا جب پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ اگر صدر پرکوئی راکٹ برسائے گا تو کیا اس کوہار پہنائے جائیں گے ؟ یہ ملک کی سالمیت ہے چلو ہم نے مان لیا ، ویسے تو ہمیں پتہ ہے کہ ملک کی سالمیت کیا ہے ؟لیکن اس سے کچھ دن کے بعد یہاں پر تو ان کو آپ اپنا کہیں نہ کہیں انہوں نے فائر کیا تھا لیکن باہر کے ملک کے جیٹ طیاروں نے وہ آپ کے ملک کے نہیں تھے انہوں نے ٹیک آف بھی یہاں سے نہیں کیا تھا دوسرے ملک سے کیا تھا انہوں نے آپ کے ملک پر آکر حملہ کیا وہاں پر آپ کے ملک کی سالمیت خطرے میں نہیں پڑ گئی یہ وہ حقیقتیں ہیں کہ جس کو آپ تسلیم نہیں کرتے کہ آپ لوگوں کی ملک کی سالمیت بھی آپ کی وردی میں آپ کی انامیں ہیں آپ کی زات ہے تو ملک ہے آپ کی وردی ہے تو ملک ہے اگر ملک نہیں ہوتا تو آج جنرل مشرف ملک کا سہارا لیتے ہوئے اقتدار میں نہ بیٹھتے باوردی صدر نہ بنتے
وجود۔کوئی ایسا نکتہ ہے یا کوئی ایسا پائنٹ ہے جس کی بنیاد پر مذاکرات کئے جا سکیں اگر حکومت کی جانب سے کمیٹی کے نکات کو تسلیم کر لیا جاتا ہے یا لوگوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے
سردار اختر مینگل۔ میں یہ بات پھر وضاحت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کس کے ساتھ مذاکرات؟ وہ بندوق ہاتھ میں لے کر یہ کہتے ہیں کہ میں کرش کردوں گا ؟ ہم ہاتھ جوڑ کر تو یہ نہیں کہتے ہیں کہ مذاکرات کریں ؟
وجود۔اگر کوئی مذاکرات کی صورتحال پیدا ہو تو؟
سردار اختر مینگل۔ ہاں اگر کوئی انسان کا بچہ ہم سے مذاکرات کرنے کے لئے آئے تو ہم اس سے مزاکرات کرنے کے لئے تیار ہیں
وجود ۔ بلوچستان کے صوبائی وزیر اعلیٰ شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ اس وقت بلوچستان میں جو بھی دہشت گردی ہو رہی ہے وہ سب بلوچستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ترقیاتی کاموں کے مخالف سردار کررہے ہیں چونکہ یہ سردار ترقی کے مخالف ہیں اس لئے انہوں نے اپنے آدمیوں کے ذریعے تخریبی کام کروائے ہیں ؟آپ اس پر کیا کہتے ہیں
سردار اختر مینگل۔ شعیب نوشیروانی عبدالکریم نوشیروانی کا بیٹا ہے عبدالکریم نوشیروانی بہت ہوشیار آدمی ہے اس کی تربیت کے زیر اثر اس کا بیٹاشعیب نوشیروانی اس قدر بیوقو ف نہیں ہوسکتا ہے ؟ اس کا کیس بھی ابھی ہائی کورٹ میں پینڈنگ پڑا ہے شعیب نوشیروانی کے خلاف جعلی ڈگری اور کم عمری کا مقدمہ چل رہا ہے ابھی حکومت کے اداروں کے رحم و کرم پر ہے جس کا باپ اس قدر تیز ہے اس کا بیٹا اس قدار نالائق نہیں ہو سکتا ہے کہ آ بیل مجھے مار سرکار کو کہے کہ آپ غلط ہیں یہ سردار صحیح ہیں اس کو اپنی وزارت بھی بچانی اپنی اپم اے کی سیٹ بھی بچانی ہے اور جعلی جو ڈگری کا معاملہ ہے کہ کہیں اس کے خلاف چار سو بیسی کا کیس نہ آجائے یہ سب اس کو بچانی ہے جہاں تک سرداروں کا تعلق ہے کہ سردار ترقی نہیں کرنا چاہتے ہیں مجھے یہ تو بتا یا جائے کہ جنرل مشرف خود اعتراف کرتے ہیں کے بہتر سردار ان کے ساتھ ہیں پھر وہ جو بہتر سردار ان کے ساتھ ہیں ان کا تعلق کسی اورڈسٹرکٹ میں سے تو نہیں ہے جن تین سرداروں کا انہوں نے زکر کیا ہے ایک کا تعلق کوہلو سے ہے ایک کا تعلق خضدار سے ہے نواب بگٹی کا تعلق ڈیرہ بگٹی سے ہے ان میں سے دو دسٹرکٹ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی ہیں جن کے سردار ہیں ہمارے ڈسٹرکٹ میں تو کئی سردار ہیں ایک سردار نہیں ہے زہری بھی ہے لہڑی ہے بزنجو بھی ساسولی بھی ہے ان دسٹرکٹ جن کے سرداروں کا ان سے تعلق ہے ان میں کس طرح کی ترقی کی گئی ؟شعیب نوشیروانی کا جو ڈسٹرکٹ ہے جس میں ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ پینے کے پانی کے محتاج ہیں چاغئی جس کا نام ایٹمی ڈسٹرکٹ رکھا گیا تھا جہاں پر ایٹمی دھماکہ کیا گیا تھا پچھلے تین سال قبل بلوچستان میں جو قحط آیا تھا چاغئی اسی قحط کی لپیٹ میں آیا تھا تفتان وہاں کا علاقہ ہے وہ سرداروں کا علاقہ تو نہیں ہے ان سرداروں نے تو نہیں روکا وہاں پانی کیوں نہیں فراہم کیا جاتا ہے کل ہمارا لیاری میں جلسہ تھا وہ کیوں پسماندہ ہے وہاں کسی سردار کا نام تو بتائیں ؟ وہاں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ روڈ نہیں کسی پہاڑی علاقے میں گاڑی چلا رہے ہیں مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں لوگ مجبور ہیں کہ گندے نالوں کا پانی پئیں وہاں پر شعیب نوشیروانی جیسے لوگ، یا میراثی شیخ رشید کو کس نے ترقی سے روکاہے ؟اورایسی کئی آپ کو مثالیں ملیں گی میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم وہ ترقی چاہتے ہیں کہ جس سے ہمارا وجود ہمارا قومی تشخص اقلیت میں تبدیل نہ ہو ہم نے یہ نہیں کہا کہ ہم ترقی نہیں چاہتے ہیں کہتے ہیں کہ ترقی دی جائے لیکن جس ترقی کا احساس مجھے ہوگا وہ شائد اسلام آباد میں بیٹھے ہو ئے یا لال کوٹھی میں بیٹھے ہوئے شیخ رشید کو نہیں ہو گا اس ترقی کے اختیارات صوبوں کو کیوں نہیں دئے جاتے ہیں ؟ گوادر کی ترقی اگر بلوچستان کے عوام کے لئے ہے تو بلوچستان کی حکومت ان کی اپنی حکومت ہے ا س میں جام سے لے کر بے ریش یا باریش کیبنٹ کے اراکین بلوچستان کے اپنے ہیں ہم نے یہ نہیں کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا اختیار ان تین سرداروں کو دیا جائے صوبے کو دیا جائے صوبے کی حکومت کو دیاجائے صوبہ کی اسمبلی کو دیا جائے آر سی ڈی روڈ تین ممالک کے تعاون سے یہ بنایا گیا تھا یہ حب سے شروع ہوتا ہے اور تفتان ایران بارڈر تک جاتا ہے یہ تین ممالک کے تعاون سے بنایا گیا ہے آپ اس روڈ کی حالت دیکھیں ، وہ اس وقت ان کی ضرورت کے دائیر ے میں آتا تھا اس وقت تو بنا لیا جب ان کی ضرورتیں پوری ہو گئیں سوئت یونین افغانستان سے نکل گیا اور خود وہ بکھر گیا اب وہ ان کی ضرورت نہیں رہ گئی ہے اب ان کی ضرورت گوادر میں گوادر کا ساحل ہے آج آپ گوادر کی کوسٹل ہائی وے پر سفر کرکے دیکھیں فرق محسوس ہو جائے گا کوہلوکے علاقے میں بسنے والے آج جنرل صاحب ایک ڈسٹرکٹ ناظم کی دعوت پر کوہلو پہنچتے ہیں وہ ڈسٹرکٹ ناظم کی دعوت نہیں تھی وہ وہاں جو اندر گراؤنڈ جو وسائل ہیں گیس اور پیٹرول کی شکل میں جس نے مقنا طیس کی شکل میں کشش کے طور پر جنرل مشرف کو کھینچ کر وہاں پہنچایا ہے اور ان وسائل کو لوٹنے کے لئے ہمیشہ کا یہ وطیرہ ہے کہ فوج کے زریعے لوٹیں اس کے لئے جنرل صاحب نے کینٹونمنٹ کی بنیاد رکھی ہمارے بلوچستان میں ہر چالیس کلو میٹر پر ایف سی کا چار چار ایکڑ کے برے بڑے قلعے بنے ہوئے ہیں ترقی کیا چھاؤنی یا ایف سی کے قلعوں سے آتی ہے یا ہمیں یہ سمجھایا جائے کہ یہ تمام کے تمام بلوچستان کے علاقے کسی دشمن ممالک کی کی سرحدوں سے ملتے ہیں ؟ کیا وہ اچھا نہ ہوتا ان قلعوں کے بجائے وہاں پر کوئی کالجز بنا دئے جاتے
وجود۔کہا جاتا ہے کہ آپ کے سردار ان کالجز اور تعلیمی اداروں کی مخالفت کرتے ہیں نواب بگٹی کا علاقہ دیکھ لیں رازق بگٹی نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے ان اسکولوں اور کالجوں کو اوطاق بنا رکھا ہے سرداروں نے ان تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو اپنی زاتی استعمال میں لے رکھا ہے؟
سردار اختر مینگل۔رازق بگٹی وہ تو ایک تنخواہ دار ہے اس کو تنخواہ اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ بھونکے، وہ ایک زمانے میں بی ایس او کا چئیرمین تھا اور یہ ہی انقلابی یہاں سے اسٹوڈنٹس کو لے کر افغانستان میں جا تا تھا اور یہ ہی انقلابی حیدرآباد سازش کیس میں بھی ملوث تھا اور آپ کے ضیا ء الحق کے تما م دور میں یہ افغانستان میں رہا یہ کیا اس دور میں وہاں پر ان اسکولوں کا جائیزہ لینے گیا تھا یا وہاں پر ان سرداروں سے مشورہ لینے کے لئے گیا تھا کہ وہاں پر سردار کس طرح سے جھوٹ بولتے ہیں ؟وہ بالکل ایک باغی ہوکرپاکستان اور پاکستان کے حکمرانوں بغاؤت کے طور پر وہاں جاکر بیٹھا تھا
وجود۔مگر اب تو وہ سرداروں کے خلاف بات کرہے ہیں ؟
سردار اختر مینگل۔ کرے گا جی اس کو تنخواہ لینی ہے تنخواہ کے لئے یہ کام کررہا ہے جس شخص کو کوئی اپنے اخبار میں جو چھاپنے کے لئے تیار نہ ہو سڑکوں پر جو اخبار بیچتے ہیں وہ دینے کے لئے تیار نہ ہوبیٹھے بیٹھے پچاس ہزار گھر پر ملیں تو وہ بیچارہ کیوں نہیں بولے گا اور جہاں تک اسکولوں کا تعلق ہے جن علاقوں میں فوج اپنے قلعے بنا سکتی ہے میری اپنی زمین پر تین مقامات پر ایف سی نے قلعے بنا لئے ہیں میری مرضی کے خلاف مجھ سے پوچھے ہوئے قلعے بنا لئے ہیں ایک میں انہوں نے سوایکڑ دوسرے میں پانچ ایکڑ اور تیسرے میں چھ ایکڑ ہے جب اپنی ضرورت کے تحت ہماری زمینوں پر فوجی چھاؤنی بنا سکتے ہیں تو انہوں لوگوں کی ضرورت کے لئے اسکول کیوں قائم نہیں کئے ہیں ؟
وجود۔ یہ الزام عائد کیاجاتا ہے کہ بھارت کی جانب سے بلوچستان میں مداخلت کی جارہی ہے ؟ ان عناصر کوبھارت سے امداد حاصل ہو رہی ہے ؟
سردار اختر مینگل۔ یہ الزامات اس قدر لگے ہیں کہ ہمارے کان ہی پک گئے ہیں ایک زمانے میں جب سوئت یونین تھا تو اس وقت دو ہی سپر پاور کہلاتے تھے ایک طرف امریکہ دوسری طرف سو ئت یونین پاکستانی حکمرانوں اور پاکستان کے مذہبی جماعتوں کی سنگت سوئت یونین کے خلاف تھی اور اور نرم گوشہ وہ امریکنوں کے لئے رکھتے تھے تو ایک ایسا ماحول تھا اس طرح کی ہوا تھی کہ جس پر بھی آپ کے جی بی کے ایجنٹ کا الزام لگا دیتے تھے لوگ آؤ دیکھتے تھے نہ تاؤ1973 میں جب نیپ کی حکومت کو برخواست کیا گیا تو اسلام آباد میں عراق کے سفارتخانے سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا تھا اب عراق والوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ بلوچستان کا بارڈر ایران سے نزدیک ہے یا سمندر سے نزدیک ہے یا مری ہندوستان سے نزدیک ہے انکو ہتھیار اگر پہنچانا ہوتے تو سمندر کی اتنی بڑی پٹی ہے انہوں نے ڈرامہ رچایا کہ تاثر پھیلانے کے لئے کہ دیکھیں جی یہ جو بیرونی امداد ا کا سہار لیا ہے اگر بلوچستان کے قوم پرستوں کے لئے لوگوں کے دل میں ہمدردی ہے تو ہمدردی کو منتقل کریں نفرت کی جانب کہ یہ بیرونی ملک کا سہارا لے کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں کیو نکہ پاکستان کی سالمیت کو انہوں نے اس طرح بنایا ہوا ہے کہ اس کا الزام آپ کسی پر لگا دیں تو جس نے الزام لگا یا ہے اس کے ہاتھ میں تو تلوار ہے جو تماش بین کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہیں کہ ملک دشمن ہے مار دو اس کو ہمیشہ ہمارے حکمران جو ہیں ہمارے عوام کی اس نادانی کاناجائیز فائدہ اٹھایا ہے اب الزام یہ لگا یا جارہا ہے کہ بھارت سے بلوچستان کے لوگوں کو سپورٹ دی جارہی ہے اب آپ الزام جو لگا رہے ہیں یہ بھی تو دیکھیں آپ خود کیا کررہے ہیں ہندوستان نے یہ غلطی کی کہ ہمیں انسان سمجھ بیٹھے اور انسنانی ہمدردی کے طور پر کہا کہ انسنانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہے تھی یہ ہی بات ایچ آر سی پی کی عاصمہ جہانگیر نے کہی کشمیر میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ہمارے حکمران ہمارا میڈیا سر تاپہ احتجاج ہو جاتا ہے کشمیر کے لوگ انسان ہیں ہم کیا انسان نہیں ہیں ؟اب اپنے گریبان میں تو دیکھیں پھر کسی اور پر انگلی اٹھائیں ؟
وجود۔بلوچستان نیشنل الائینس جس وقت بنائی گئی تھی طویل مدت کے بعد آپ کے والد صاحب اور نواب اکبر بگٹی کے درمیان اتحاد ہوا تھا مگر اس کے نتیجے میں بزنجو صاحب کو شکست ہوئی مگر اس کے بعد یہ اتحاد دوبارہ قائم نہیں ہو سکا ؟ ا
سردار اختر مینگل1996میں حکومت بنائی وہ ہمارے اتحاد کا مظہر تھا
وجود ۔ بی ایل اے کیا حقیقی تنظیم ہے یا محض دھکوسلہ؟ طاہر بزنجو نے اپنی کتا ب بلوچستان کیا ہوا؟ کیا ہوگا؟کے صفحہ نمبر 153 پر لکھتے ہیں کہ آپ کے والد سردار عطا ء اللہ مینگل نے یہ لندن میں اس وقت قائم کی تھی جب وہ لندن میں جلا وطنی کے دن گزار رہے تھے ؟
سردار اختر مینگل۔یہ تو طاہر بزنجو ہی کو پتہ ہو گا مجھے معلوم نہیں ہے
وجود۔ طاہر بزنجو نے لکھا ہے کہ جب آپ کے والد 80کی دہائی میں لندن گئے تھے اس وقت بی ایل اے بنائی گئی تھی
سردار اختر مینگل۔بی ایل اے کی جو تصویر سامنے آئی ہے وہ تو ابھی چار پانچ سال کے دوران سامنے آئی ہے مشرف کے دور حکومت میں سامنے آئی ہے اس سے پہلے تو نہیں تھی
وجود۔ بحر حال یہ طاہر بزنجو نے اپنی کتاب میں یہ بات لکھی ہے ؟
سردار اختر مینگل۔یہ بات تو طاہر بزنجو ہی کو پتہ ہوگا
وجود۔ جب آپ وزیر اعلیٰ تھے تو آپ نے بلوچستان کے عوام کے لئے کیا کام کئے ؟
سردار اختر مینگل۔ہماری حکومت بنانے میں رکاوٹ کھڑی کی گئیں ؟43کا ہاؤس تھا سب سے بڑی پارٹی ہم تھے جس کے پاس دس سیٹیں تھیں مسلم لیگ نون جے یو آئی اور دیگر پارٹیاں تھیں اس وقت مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے والد صاحب سے بات کی تھی کہ پنجاب میں سندھ میں ،فرنٹیر میں ہماری حکومت بن رہی ہے اور اگر آپ تعاون کریں تو بلوچستان میں بھی ہماری حکو،مت بن سکتی ہے والد صاحب نے کہا کہ اس وقت اکثریت ہماری ہے اس وقت ایک بات دیکھی کہ وہ لوگ جن کا نام ہم اسٹیبلیشمنٹ کہتے ہیں آخری وقت تک ان کی کوشش تھی کہ ہماری حکومت قائم نہ ہو گورنر ہاؤس میں اس وقت کے گورنر بلوچستان جنرل عمران اور وزیر اعلیٰ ظفراللہ جمالی آخری وقت تک کوشش کرتے رہے کہ ہماری حکومت قائم نہ ہو مگر ان کو اس کوشش کو جمہوری جماعتوں اورجمہوری سوچ رکھنے والی قوتوں نے ناکام بنا دیا اس وقت یہ بات سامنے آئی کہ اگر چہ بلوچستان وسائل کے اعتبار سے خود کفیل ہے مگر ہمیشہ مالی اعتبار سے مرکز کا محتاج رہا ہے کہ وہاں سے امداد آئے کچھ وہ ترقیاتی کام کرے یا صوبے کی انتظامیہ کی تنخواہیں دے اب مجھے یاد ہے کہ ہم پہلا بجٹ جو پیش کرنے کی تیاری کرہے تھے کل ساڑھے سالہ ارب روپے کا ہمارا بجٹ تھا 26ڈسٹرکٹیں تھیں 6.5ملین آبادی اور ساڑھے سولہ ارب اب اس کو کس طرح سے خرچ کرنا تھے ساڑھے سولہ ارب روپیساڑھے بارہ ارب روپے غیر ترقیاتی کاموں میں صرف کئے جانے تھے باقی بچے چار ارب بچے ہم نے اس میں تین ارب روپے ان اسکیموں کے لئے وقف کئے جو کئی سالوں سے پینڈنگ میں پڑی تھیں اور سیاسی بنیادوں پر ان کو روک دیا گیا تھا ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ان پر اتنے اخرجات کئے جاچکے ہیں اگر اس کو ہم روکتے ہیں تو اس کا نقصان صوبے کا ہے جس قدر اس پر خرچ کیا جاچکا ہے کسی کی زاتی جیب سے تو نہیں گیا ہے اس لئے اس کو مکمل تو گیا اب ہمارے پاس بچا تقریبا ایک ارب روپے اب ایک ارب میں ہم کتنے کام کریں ؟ایم پی ایز فنڈ تھے ،جو کچھ بچا تھا اس میں ہم نے 40% تعلیم کی مد میں رکھا ،اگر ہم سردار تعلیم کو ناپسند نہییں کرتے تو نیپ کے دور حکومت میں جو حکومت تھی اس کے وزیر اعلیٰ سردار تھے اس کی صوبائی اسمبلی سے یہ بل سرداری نظام کے خاتمہ کا بل منظور کیا گیا
رازق بگٹی صاحب نے کہا کہ سردار اسکول تعلیمی ادارے قائم نہیں کرنا چاہتے ہیں جس یونیورسٹی سے اس نے تعلیم حاصل کی ہے وہ یونیورسٹی بلوچستان ہے اس کی بنیاد نیپ کی حکومت کے دور میں رکھی گئی بولان میڈیکل کالج اس کی بنیاد نیپ کی حکومت کے دور میں رکھی گئی اگر سردار ترقی کے تعلیم کے خلاف ہوتے اپنی سرداری کو قائم رکھنا چاہتے تو وہ سرداری کے حق میں بل پاس کروا دیتے اور ان یونیورسٹیوں کے خلاف کوئی نہ کوئی قرارداد منظور کروا دیتے تو 40%ہم نے بجٹ کا تعلیم کے لئے رکھا ہمیں ایک بجٹ پیش کرنے کا موقع ملا دوسرا بجٹ ہم نے پیش کیا میں ہمیشہ ہی اس پریشانی میں رہا کہ کس طرح فنڈ حاصل کروں ؟ ہر ماہ کی تنخواہوں کے لئے ہمیں جانا پڑتا تھا ہم یہ سمجھتے تھے کہ جو بھی ہماری لئے مالی مشکلات پیدا کیں گئی وہ اس لئے کی گئیں کہ ہم کوئی کام نہ کرسکیں ہم نے بہت ہی مشکلات میں وقت گزارا29مئی کو پارٹی کی میٹنگ کے دوران ہمیں اطلاع ملی مسلم لیگ نے عدم اعتماد کا موشن موو کردیاجس کے نتیجے میں ہماری حکومت کا خاتمہ ہو گیا
وجود یہ جو تخریب کاری ہورہی ہے یہ ہمارے ہی ملک کا نقصان ہورہا ہے ؟ کیا یہ بلوچوں کا نقصان نہیں ہے ؟
سردار اختر مینگل۔ جی ہاں
وجود ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آپریشن میں آپ کو سب سے بڑا خاندانی نقصان ہوا ہے کہ آپ کے بڑے بھائی مرحوم اسد اللہ مینگل کو شہید کیا گیا
وجود ۔گزشتہ دنوں روزنامہ انتخاب کے ایڈیٹر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ اب بلوچستان کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں اب کم از کم خاران کے لوگ اس جنگ میں شریک نہیں ہوں گے ؟ آپ کا کیا خیال ہے
Back to Conversion Tool